1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مسٹر عزیز یہ رقم انتہاپسندی کے خلاف استعمال کریں‘

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران افغان صدر نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن بہتر ہو گا کہ یہ رقم پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف استعمال ہو۔

، ’’ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ افغان صدر کا پاکستانی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں سرحد پار دہشت گردی کو شناخت کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک فنڈ کی ضرورت ہے۔  پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ مسٹر عزیز، یہ رقم انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔‘‘

غنی کا مزید کہنا تھا، ’’گزشتہ برس افغانستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے، اب بھی کچھ ریاستیں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتی ہیں۔ ایک طالبان شخصیت نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہ ملیں تو وہ ایک مہینہ بھی نہیں بچ سکتے۔‘‘

بھارت افغان ایئر کارگو سروس کا  آغاز، اعلان آج متوقع

پاک بھارت کشیدگی میں کمی کا امکان، سرتاج عزیز بھارت پہنچ گئے

غنی کا مزید کہنا تھا، ’’میں الزام تراشی کا کھیل نہیں چاہتا لیکن وضاحت چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کی برآمد کو روکنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اتوار کے روز بھارت میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے، جس میں افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے بات چیت کی گئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے یہ ملاقات بھارتی شہر امرتسر میں جاری ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر کی ہے۔ دونوں رہنما گزشتہ شام بھارت پہنچے تھے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب افغانستان میں امن عمل انتہائی سست ہو چکا ہے۔

اس ملاقات کے حوالے سے ایک پاکستانی ذریعے نے بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا ہے، ’’ ملاقات  کے دوران افغانستان میں استحکام، امن اور ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ہارٹ آف ایشیا اور استنبول پراسس کا آغاز سن دو ہزار گیارہ میں کیا گیا تھا، جس میں پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قزاقستان، کرغستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے مابین ، سلامتی، اقتصادی اور سیاسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

DW.COM