1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلم ممالک سے بہتر تعلقات، جرمن خارجہ پالیسی کا حصہ

جرمن دفترخارجہ کے تعاون سے جرمن شہر شٹٹ گارٹ میں ایک ایسی دو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی، جس کے اعلامئے میں واضح طور پر کہا گیا کہ مسلم دنیا اور جرمنی کے مابین فاصلوں میں کمی برلن حکومت کی خارجہ سیاست کا مرکزی حصہ ہے۔

default

اس کانفرنس کا انعقاد وفاقی جرمن وزارت خارجہ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارہ برائے غیرملکی ثقافتی تعلقات IFA نے کیا تھا۔ اس اجتماع میں آٹھ مسلم ریاستوں کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوان پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔ کانفرنس کی صدارت مغربی ملکوں کے مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کی معروف جرمن ماہر ڈاکٹر زائنا ماتار نے کی۔

Konferenz des Instituts für Kulturaustausch in Stuttgart

کانفرنس میں گفت و شنید کا منظر

اشٹٹ گارٹ میں کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں اس اجتماع کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے IAF کی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مانوئلا ہوگل مائر کا کہنا تھا: "ہم اس کانفرنس کے شرکاء سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں جرمنی کے حوالے سے پائے جانے والے تعصبات سے متعلق کھل کر اظہار رائے کریں گے۔ وہ جرمن نوجوان جو اس کانفرنس میں شریک ہیں، ان میں سے کئی حال ہی میں مختلف مسلم ریاستوں میں متنوع قسم کے تربیتی پروگراموں کے بعد واپس لوٹے ہیں۔ یہ جرمن نواجوان بھی ہر ممکن پلیٹ فارم سے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کریں اور وہ دوسروں کو اپنے بیرون ملک تجربات سے آگاہ بھی کریں گے ۔"

اس کانفرنس میں جرمنی میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ دیگر بہت سے شعبوں سے منسلک وہ نوجوان بھی شریک ہوئے جو اپنے کیریئر کے دوران اب تک مختلف مسلمان ملکوں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ IFA کے زیر اہتمام اس کانفرنس کے مختلف ورکنگ سیشن منعقد ہوئے۔ ان میں تفصیلی تبادلہ خیال اور تعمیری تنقید کے نقطہ نظر سے ہونے والے بحث میں ان روایتی تصورات اور stereotypes پر بھی خاص توجہ دی گئی جوبالعموم اکثریت طور پر مسلم اور مغربی معاشروں کے مابین مسلسل فاصلوں کا سبب بنتے ہیں۔

Konferenz des Instituts für Kulturaustausch in Stuttgart

کانفرنس کے موضوع سے متعلق ماہر Dr. Zeina Matar کانفرنس کے شرکاء سےبات چیت کے دوران

اس کانفرنس میں شریک آٹھ مسلم ملکوں سے منتخب کئے گئے نوجوان ایسے غیر ملکی تھے جو پہلے ہی سے جرمنی میں مختلف اداروں میں مختصر مدت کے لئے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان نوجوان شرکاء کا مئوقف تقریبا ایک جیسا تھا۔ ان کی اکثریت کے بقول اس کانفرنس کی صورت میں انہیں ایسا پلیٹ فارم میسر آیا جہاں سے وہ مسلم ملکوں اور جرمنی، دونوں میں ایک دوسرے کے بارے میں پائے جانے والے تعصبات کا غیر جانبدارانہ طور پر مشاہدہ اور تجزیہ کر سکتے تھے۔

دو روزہ کانفرنس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ہی معاشروں میں ایک دوسرے کے خلاف تعصبات کی ایسی وجوہات کا تعین بھی ہو سکا، جو بالکل ہی بے بنیاد تھیں۔ ماضی کے نازی دور میں جرمنی میں نسل پرستی کے حوالے سے کانفرنس کے اکثر مسلمان شرکاء کی رائے بھی کافی ھد تک یکساں تھی، تاہم ان غیر ملکی نوجوانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی میں وقت گزارنے اور جرمن معاشرے کی مختلف اکائیوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد جرمنی اور جرمنوں کے بارے میں ان کے نظریات بالکل تبدیل ہو گئے ہیں۔

IFA کے زیراہتمام سن 5200 سے اب تک اہتمام کردہ بیسیوں تربیتی پروگراموں میں کل 135 نوجوانوں کو مسلم ممالک سے جرمنی اور جرمنی سے مسلمان ریاستوں میں بھیجا چکا ہے۔

رپورٹ : عبدالرؤف انجم

ادارت : مقبول ملک