1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلم معاشروں میں انتہاپسندی کی وجوہات

تیسری دنیا کے بیشتر مسلم معاشروں میں سب سے زیادہ غریب طبقہ شدت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے۔ اس امر کا واضح ثبوت ہمیں پاکستان سے لے کر مصر تک میں دکھائی دیتا ہے۔

default

مسلم معاشروں میں غریب طبقہ بدتر زندگی گذارتا ہے

عام طور پر خودکش بمباروں میں جہاں ایک طرف مذہبی جنونیت پائی جاتی ہے تو دوسری طرف ان کا سماجی پس منظر بھی بہت اہم ہوتا ہے جس کے باعث وہ غلط لوگوں کے آلہ کار بن کر پوری دنیا کے لئے ایک خطرہ بن جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس حوالے سے کراچی میں دی نیوز اخبار سے منسلک نامور صحافی اور سماجی تجزیہ نگار زین العابدین کہتے ہیں کہ شدت پسندی مسلم سماج کے علاوہ دوسرے غریب معاشروں میں بھی موجود ہے، تاہم مذہبی شدت پسندی حالیہ سالوں میں مسلم معاشروں کا ہی خاصہ رہی ہے۔

زین العابدین نے غریب طبقے میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی کی اہم وجوہات بیان کیں ان میں سر فہرست غربت میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ مسلم ممالک کیےحکمرانوں اور اداروں میں کرپشن، اور ان کی اپنے عوام کی حالت زار پر بے حسی بھی اہم وجوہات میں سے شامل ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ مسلم معاشروں میں برسراقتدار مغربی تعلیم یافتہ اشرافیہ عام شہریوں کے مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

Weltaidstag in Südafrika Kind

ایشیا سے افریقہ تک غربت کی شکل ایک جیسی ہے

ایشیا سے لے کر افریقہ تک کے ممالک کےحالات پر تبصرہ کرتے ہوئےزین العابدین نے کہا کہ ان ممالک کی معاشی حالت کی ابتری کی ایک بڑی وجہ ان پر تھوپی گئی نئی سامراجی پالیسی ہے۔ اسی لئے وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں شدت پسندی کی بیماری اور مغرب کے خلاف نفرت کی ایک بڑی وجہ اس نئی سامراجی پالیسی کے تحت مغربی نظریات کا ان ممالک کے عوام پر پر بلا کسی تفریق اور سمجھے بوجھے بغیر تھوپے جانا ہے۔

مسلم سماج میں شدت پسندانہ رویوں کی جڑیں کہاں اور کیوں موجود ہیں؟ اس حوالے سے زین العابدین کہتے ہیں کہ زیادہ تر خود کش بمبار غریب طبقے سے آتے ہیں۔ ان افراد کے مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں استعمال ہوجانے کی وجہ سماجی ناہمواری ہے، کیونکہ ان کو تعلیم کی سہولت میسر ہے نہ ہی صحت کی۔ زین العابدین کے مطابق جب ریاست سامراجی پالیسیوں کے تحت تعلیم، صحت اور روزگار سے ہاتھ اٹھا لے گی اور یہ تمام سہولیات معاشرے کے صرف ایک خاص طبقے کو میسر آسکیں گی، تو غریب شہری اپنے بچوں کو لازمی طور سے مدرسوں میں بھیجیں گے، جہاں انہیں دو وقت کی روٹی اور مذہبی تعلیم مفت ملتی ہے۔

شدت پسندی کو روکنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسلم معاشروں میں استحصال زدہ ہونے کا احساس بڑھتا جارہا ہے، جبکہ دوسری طرف ریاست بھرپور انداز میں ان افراد کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ زین العابدین کو اندیشہ ہے کی ریاستی طاقت کے استعمال سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کرسکتا ہے۔

تحریر: انعام حسن

ادارت: افسر اعوان