1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلم مخالف سوال پر خاموشی، ٹرمپ تنقید کی زد میں

امریکا میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند رہنما ریپبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ انتخابی اجتماع میں ایک شخص نے صدر اوباما کومسلم اور غیرامریکی قرار دیا اور ٹرمپ خاموش رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن صدارتی امیدوار بننے کے لیے اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے کہ ان کے ایک مسلم مخالف حامی نے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما مسلم ہیں اور وہ امریکی نہیں ہیں۔ اس بات کو رد کرنے کی بجائے ٹرمپ نے ایسا بیانیہ اختیار کیا، جس سے لگتا تھا کہ جیسے وہ اس شخص کی بات سے متفق ہیں۔ اسی تناظر میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بننے کے لیے کوشاں رہنما وائٹ ہاؤس میں جمع ہوئے اور ٹرمپ پر تنقید میں وائٹ ہاؤس کی آواز میں آواز شامل کی۔

اس معاملے کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں اب تک سب سے آگے دکھائی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکا میں مقیم اقلیتوں کے حوالے سے سوچ پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کم از کم ایک ریپبلکن صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند رہنما نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کو اس بات کا مناسب جواب دینا چاہیے تھا۔

New York Donald Trump Republikaner Treuschwur

اس سے قبل بھی ٹرمپ کو متعدد تنازعات کا سامنا رہا ہے

اسی تناظر میں ٹرمپ کو جمعے کے دن اپنے حامیوں کے اجتماع میں شرکت بھی منسوخ کرنا پڑی۔

جمعرات کے روز امریکی ریاست نیو ہمپشائر کے علاقے روچسٹر میں ٹرمپ اپنے حامیوں کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے کہ ایک نامعلوم شخص نے کہا، ’اس ملک میں ایک بڑا مسئلہ موجود ہے اور وہ ہیں مسلمان۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا صدر بھی ان میں سے ایک ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ امریکی بھی نہیں ہے۔‘

اس کے جواب میں ٹرمپ نے اس شخص کی بات کو رد کرنے کی بجائے کہا، ’خیر یمارے ہاں تربیت گاہیں بڑھ رہی ہیں، جہاں وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں مار ڈالیں۔‘

اس پر اس شخص نے دوبارہ کہا، ’یہی میرا سوال ہے۔ ہم ان سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔‘

اس پر ٹرمپ نے کہا، ’بہت سے لوگ یہ بات کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ بری چیزیں ہو رہی ہیں۔‘

یہ بات کہہ کر ٹرمپ تیزی سے اگلے سوال کی جانب بڑھ گئے اور اس شخص کی اس بات کا جواب نہیں دیا، کہ صدر اوباما مسلم ہیں اور امریکی بھی نہیں ہیں۔ اس طرح اس شخص کی بات کو صرف نظر کرنے پر ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے امریکی عوام میں ایک غلط فہمی کو پنپنے دیا۔

اس واقعے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکی اقلیتوں اور تارکین وطن کے حوالے سے خیالات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ جون میں اپنی مہم کے آغاز پر انہوں نے کہا تھا کہ میکسیکو سے امریکا منتقل ہونے والے تارکین وطن ’ریپسٹس اور قاتل‘ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ دیگر ممالک سے امریکا منتقل ہونے والے افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔