1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلم لیگ (ن ) کو حکومت میں شمولیت کی دعوت

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کے روز وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات میں مسلم لیگ نواز کو دوسری مرتبہ باضابطہ طور پر وفاقی کابینہ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

default

نواز لیگ شروع میں پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں شامل تھی

اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں کا اتحاد ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے اور مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع کے بقول شہباز شریف نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کو پیپلز پارٹی کی جانب سے میثاق جمہوریت پر مکمل عملدرآمد سے مشروط قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی کہ ان کی جماعت وسط مدتی یا مڈ ٹرم انتخابات کے لئے مہم چلا رہی ہے۔

اسی دوران پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی جماعت میثاق جمہوریت اور قومی مفاہمت کے ایجنڈے پر پوری طرح گامزن ہے اور بقول ان کے اسی لئے احتساب کے "کالے قانون نیب کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نئے قانون کا بل پارلیمنٹ میں پیش" کیا جا رہا ہے۔

اس بل کے خدوخال کی تفصیلات بتاتے ہوئے بابر اعوان نے کہا: ’’اس بل کا نام ہولڈز آف پبلک آفسز اکاؤنٹیبلیٹی ایکٹ 2009 ہے۔ یہ پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ بدل دے گا۔ نیا ایکٹ ہم لے کر آ رہے ہیں جس میں احتساب کمیشن ہو گا جو تفتیش اور استغاثہ کا ادارہ ہو گا۔ اس کا چیئرمین وزیر اعظم نامزد کریں گے لیکن وہ خود ذاتی طور پر ایسا نہیں کریں گے بلکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما کے ساتھ اشتراک عمل سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اپنی سفارشات پیش کرے گی اور وزیر اعظم یہ نامزدگی انہی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔"

Proteste in Pakistan

نواز شریف نے کابینہ میں دوبارہ شمولیت کو میثاق جمہوریت سے مشروط کردیا ہے

دریں اثناء اتوار ہی کے روز ایوان صدر کی طرف سے بھی دو طرح کی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ ان میں سے ایک پیش رفت کے تحت صدر آصف علی زرداری نے سوات میں نظام عدل ریگولیشن کا مسودہ پارلیمان میں بحث کے لئے وزیر اعظم کو بجھوا دیا ہے جس پر سوموار کے دن سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث کا آغاز متوقع ہے۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے دوسرے اعلامیے کے مطابق صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارش پر لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس زاہد حسین کے علاوہ جسٹس(ر)غلام ربانی، جسٹس(ر) محمدسید علی اور جسٹس (ر) ایم اے شاہد صدیقی کو سپریم کورٹ کے جج مقررکر دیاہے جبکہ صدر نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس فلک شیراور جسٹس غلام ربانی کو تین نومبر 2007 سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کر دیا ہے۔

اعلامیے کےمطابق ان ججوں کی بحالی کا مقصد ریٹائر ہونے والے ججوں کو قانون کے مطابق تنخواہوں اور دیگر مراعات کی فراہمی ہے۔

سیاسی مبصرین وزیراعظم اور صدر کی جانب سے کئے جانے والے حالیہ اقدامات کو پاکستان کے سیاسی اور عدالتی ماحول کے لئے تازہ ہوا کے جھونکے سے تعبیر کر رہے ہیں۔