مسلم لیگ نون کی سینیئر صحافیوں پر ’مہربانیاں‘ | معاشرہ | DW | 07.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلم لیگ نون کی سینیئر صحافیوں پر ’مہربانیاں‘

پاکستان میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سینیئر ’صحافیوں پر مہربانیوں‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ مشتاق منہاس مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ عرفان صدیقی معاون خصوصی بن چکے ہیں۔

نیشنل پریس کلب کےسابق صدر اور ایک نجی ٹی وی پر ٹاک شو کے میزبان مشتاق منہاس نے مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے آبائی حلقے سے انتخابی سیاست میں داخل ہو کر پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکی آئندہ حکومت میں ’اہم کردار‘ ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔

مشتاق منہاس وہ پہلے صحافی نہیں، جو مسلم لیگ (ن) کی یا مسلم لیگ (ن) جن کی ’محبت میں گرفتار‘ ہوئی ہو بلکہ ایسے مزید سینیئر صحا فی بھی ہیں، جو اس حکومت کے ساتھ بڑے سرکاری عہدوں پر بھاری تنخواہوں اور مراعات پر کام کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کے صف اول کے اردو اخبار جنگ کے دو کالم نویس خاصے نمایاں ہیں۔ ان میں ایک عرفان صدیقی ہیں، جو گزشتہ دور حکومت میں بھی وزیر اعظم نواز شریف کے تقریر نویس رہ چکے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ انہیں وزیر اعظم نواز شریف نے اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے۔ اس عہدے کی تنخواہ اور مراعات ایک وفاقی وزیر کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے کالم نگار اور مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دور میں ناروے میں پاکستان کے سفیر رہنے والے عطاء الحق قاسمی ہیں۔ عطاء الحق قاسمی اس وقت سرکاری ٹی وی کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات ہیں۔

اسی سرکاری ٹی وی میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر دو سال تک خدمات انجام دینے والے محمد مالک بھی پاکستان کے ایک معروف صحافی ہیں۔ وہ ایک انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور مختلف نجی ٹی وی چینلز میں ٹاک شوز کے میزبان بھی رہے ہیں۔ محمد مالک سرکاری ٹی وی میں اپنی ملازمت کا دو سالہ معاہدہ پورا کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے سبکدوش ہوئے تھے۔ عام طور پر ایسے عہدوں پر موجود افراد حکومتوں کے منظور نظر ہوتے ہیں اور انہیں ملازمت میں توسیع بھی دی جاتی ہے تاہم محمد مالک کے ایم ڈی پی ٹی وی کے عہدے سے ہٹنے کے فوری بعد وزیر اعظم نے ان کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ محمد مالک پر پی ٹی وی کی ایک لیبر یونین کے اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے اقرباء پروری اور مالی معاملات میں خرد برد کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Logo Pakistan Electronic Media Regulatory Authority PEMRA

اینکر پرسن ابصار عالم بھی اس وقت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ’پیمرا‘ کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات ہیں

پاکستانی صحافت کا ایک اور اہم نام نجم سیٹھی بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ نجم سیٹھی ایک انگریزی ہفت روزہ جریدے فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر اور جیو ٹی وی کے حالات حاضرہ کے ایک پروگرام کی میزبانی بھی کر رہے ہیں۔ نجم سیٹھی دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل میاں نواز شریف کی تجویز اور ان کے مخالف عمران خان کی تائید سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔ انہیں بعد میں عمران خان اور ان کی جماعت کی جانب سے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو دھاندلی کے ذریعے جتوانے کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعد میں وزیر اعظم نواز شریف نے بطور سرپرست اعلیٰ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین تعینات کر دیا تھا۔ یہ تعیناتی عارضی ثابت ہوئی اور بورڈ کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف نے ان کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔ نجم سیٹھی کو عدالتی حکم کے نتیجے میں اس عہدے سے ہٹنا پڑا لیکن وہ بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین بن گئے۔ یوں وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نہ ہو کر بھی اس بورڈ میں انتہائی با اختیار ہیں۔

مذکورہ صحافیوں کے علاوہ پاکستان کے ایک اور سینیئر صحافی اور نجی ٹی وی چینل ’آج‘ کے ساتھ وابستہ رہنے والے اینکر پرسن ابصار عالم بھی اس وقت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ’پیمرا‘ کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ابصار عالم کی وزیر اعظم کے ساتھ قربت اس وقت منظر عام پر آئی تھی، جب مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد نواز شریف نے پہلی تقریر کی تو ابصار عالم ان کے پہلو میں کھڑے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور قومی اردو اخبار کے کالم نویس رؤف طاہر کی پاکستان ریلوے کے شعبہ تعلقات عامہ میں بطور ڈائریکٹر جنرل تقرری کی گئی ہے جبکہ جنگ گروپ سے وابستہ ایک اور سینیئر صحافی کو لاہور ہارٹیکلچر سوسائٹی میں ڈائریکٹر کا عہدہ دیا گیا ہے، تاہم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ وہ اس کے عوض کوئی بھی تنخواہ یا مراعات حاصل نہیں کر رہے۔

پاکستان میں صحافت اور صحافیوں کے موضوعات اور معاملات پر نظر رکھنے والے صحافی اور وقت نیوز کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ان تمام صحافیوں پر ان کی خدمات کے صلے میں ہی نوازشات کی گئیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’کسی بھی صحافی کا کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا یا کسی سیاسی جماعت کی حکومت میں کوئی عہدہ لینا ایک دم نہیں ہوتا۔ یہ صحافی سالوں تک ایک سیاسی ایجنڈا صحافت کے لبادے میں لے کر چلتے ہیں اور وقت آنے پر اپنی قیمت وصول کر لیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں صحافیوں کا یوں حکومتی عہدے قبول کرنا مفادات کا کھلا ٹکراؤ ہے اور یہ پیشہ ور صحافیوں پر قارئین، سامعین، ناظرین اور صارفین کے اعتماد کے بتدریج خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔