1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلم لیگ نواز کی کال پر احتجاجی مظاہرے

مسلم لیگ نواز کی کال پر جمعہ کے روز بھی راولپنڈی اور اسلام آباد میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔

default

نواز شریف اور شہباز شریف ایک جلست کے دوران

راولپنڈی میں اس وقت شدید تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا جب پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاٹھیوں سے مسلح ہو کر مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ تاہم راجہ ظفر الحق وہاں سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مسلم لیگی کارکنوں نے وزیر دفاع احمد مختار کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ وزیر دفاع کی حفاظت پر مامور جوانوں نے سخت تگ و دو کے بعد انہیں مظاہرین سے بچا کر ایئر پورٹ پہنچایا۔

ادھر اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان دن بھر آنکھ مچولی چلتی رہی اور اس دوران پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا۔ دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پنجاب میں گورنر راج کی توثیق کر دی گئی جب کہ ملکی حالات پر کل یعنی ہفتے کو قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

Pakistan Demonstration für Oppositionsführer Nawaz Sharif in Islamabad

نواز شریف کے حامی ایک مظاہرے کر دوران

اسی تناظر میں مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ عوام نے جوق در جوق مظاہروں میں شرکت کر کے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔انہوں نے کہا:’’ہم پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں پرتشدد تحریک سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں اور اگر کسی نے اس احتجاج کو ہائی جیک کر کے اپنے بندوں کے ذریعے اسے کوئی دوسرا رخ دینے کی کوشش کی تو ہم اس کو مسترد کریں گے۔‘‘

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے باہم صلاح مشوروں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور پارٹی ذرائع کے مطابق تمام رہنمائوں نے صدر زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب کے مطابق مسلم لیگ نواز عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام ہو گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ’’ سوال یہ ہے کہ ساری سرگرمیاں رائے ونڈ میں ہی کیوں ہو رہی ہیں اور اگر ان کے پاس پوری سپورٹ موجود ہے تو اجلاس کس لئےکر رہے ہیں سڑکوں پر آئیں اب تک لوگوں کو سڑکوں پر کیوں نہیں نکالا ہے۔‘‘

مبصرین کے خیال میں موجودہ حالات میں وسیع تر قومی مفاہمت کی پالیسی نہ اپنائی گئی تو سیاسی اور جمہوری نظام کو دھچکا پہنچنے کے ساتھ ساتھ ملک کے معاشی حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔