1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلم شدت پسند گروہ کا پیچھا کریں گے، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائیاں کریں گے، جو اسرائیل میں اسلامی تحریک کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل میں تشدد کے تازہ واقعات کو ہوا دینے کی ذمہ داری فلسطینی گروہ اسلامی تحریک پر عائد کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت ہر محاذ پر کارروائی کرتے ہوئے تشدد کی اس لہر کا خاتمے کر دے گی۔

انہوں نے کہا اس اس تحریک کو ملنے والی تمام اعانت اور خصوصی مالی اعانت کا مکمل انسداد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Westjordanland Bet El Gewalt Palästinenser Israelis

اسرائیل میں گزشتہ کچھ عرصے سے تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے

یہ بات اہم ہے کہ قریب ایک ماہ قبل نئے یہودی سال کے آغاز پر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا۔ اس تشدد کی بنیادی وجوہات وہ افواہیں تھی کہ اسرائیل ٹیمپل ماؤنٹ میں قائم مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹیمپل ماؤنٹ یہودیوں کے لیے سب سے مقدس مقام ہے، جب کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے تیسرا سب سے مقدس مقام۔ فلسطینی مسجد اقصیٰ کو اپنی قومیت کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے متعدد مرتبہ ان الزامات کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل اس سلسلے میں طے شدہ ضابطے کو تبدیل نہیں کرے گا اور یہودیوں کو اس مقام پر جانے کی تو اجازت ہو گی، تاہم عبادت کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم تشدد کے یہ واقعات کسی طور کم ہوتے نظر نہیں آتے ہیں۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ فلسطینی جھوٹے دعوے کر کے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، تاہم فلسطنیوں کا کہنا ہے کہ تشدد کی بنیادی وجہ 50 برس گزر جانے کے باوجود بھی اسرائیل فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے قیام امن کے لیے دو ریاستی حل کی تجاویز کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ یا ٹھوس بات چیت آگے نہیں بڑھ پائی ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں فلسطینی اپنی الگ ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔

ادھر اتوار کو مغربی کنارے کے علاقے نابلوس میں واقع ’حضرت یوسف کے مزار‘ پر درجنوں یہودی زائرین غیرقانونی طور پر پہنچ گئے، تاہم فوج کے مطابق ان یہودیوں کو اس مزار سے نکال دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس مزار کو کچھ روز قبل فلسطینیوں نے آگ لگا دی تھی۔