1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلم دنیا میں اوباما اور امریکہ کی مقبولیت ماند، سروے

ایک تازہ سروے کے مطابق مسلم دنیا میں امریکہ اور اس کے موجودہ صدر باراک اوباما کی ساکھ گزشتہ ایک برس کے دوران متاثر ہوئی ہے اور مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما

اس سروے کے نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب باراک اوباما عرب دنیا میں جاری جمہوریت پسندی اور اس کے لیے جدوجہد کے حوالے سے ایک اہم خطاب کرنے والے ہیں۔ یہ سروے ایک تحقیقی ادارے 'Pew Reserach Center' کی طرف سے کروایا گیا ہے۔

مسلم دنیا میں انڈونیشیا واحد ایسا ملک ہے، جہاں کے اکثریتی عوام کی رائے امریکہ اور باراک اوباما کے حق میں ہے، تاہم وہاں بھی 2010ء کے مقابلے میں ان کی مقبولیت میں پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ برس امریکہ اور اوباما کی مقبولیت کا گراف 59 فیصد تھا۔

زیادہ تر لوگ عرب دنیا میں جاری تبدیلی کی جدوجہد کے دوران امریکی صدر کے کردار پر ناخوش ہیں

زیادہ تر لوگ عرب دنیا میں جاری تبدیلی کی جدوجہد کے دوران امریکی صدر کے کردار پر ناخوش ہیں

Pew کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق امریکی صدر اس برس بھی زیادہ تر مسلم ممالک میں غیرمقبول ہی ہیں۔ مزید یہ کہ زیادہ تر لوگ عرب دنیا میں جاری تبدیلی کی جدوجہد کے دوران ان کے کردار پر ناخوش ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کے اتحادی ممالک اردن اور ترکی میں بھی گزشتہ ایک برس کے دوران امریکی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

اردن کے عوام کے درمیان امریکہ کی مقبولیت میں مزید آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور تازہ سروے میں یہ محض 13 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری طرف ترکی میں صرف 10 فیصد لوگوں کی رائے امریکہ کے بارے میں مثبت ہے، گزشتہ برس یہ تناسب 17 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق ترک عوام میں امریکی صدر اوباما پر اعتماد کرنے والوں کی تعداد محض 12 فیصد رہ گئی ہے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہے۔ تاہم اردن میں صدر اوباما پر اعتماد میں اضافہ تو ہوا ہے مگر صرف دو فیصد۔ اب یہ شرح 28 فیصد ہے۔

سروے کے لیے پولنگ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے امریکی خفیہ آپریشن سے قبل مکمل کی گئی تھی

سروے کے لیے پولنگ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے امریکی خفیہ آپریشن سے قبل مکمل کی گئی تھی

پاکستانی عوام میں بھی امریکی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ 2010ء میں 17فیصد کے مقابلے میں رواں برس یہ شرح محض 11 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم امریکی صدر کے بارے میں لوگوں کی رائے میں بہتری آئی ہے۔ گزشتہ برس صرف آٹھ فیصد لوگوں کی رائے اوباما کے بارے میں مثبت تھی، جبکہ رواں برس اس کی شرح 10 فیصد ہے۔

'Pew Reserach Center' کی جانب سے اس سروے کے لیے پولنگ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے امریکی خفیہ آپریشن سے قبل مکمل کی گئی تھی۔ اس سروے کے لیے مصر، انڈونیشیا، اسرائیل، اردن، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ترکی میں ایک ایک ہزار افراد سے رائے لی گئی تھی، جبکہ پاکستان میں مارچ اور اپریل کے مہینوں کے دوران دو ہزار لوگوں سے رائے دریافت کی گئی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس