1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلم خواتین اور جنس: نیا ایشیائی جریدہ

اس جریدے کا نام ’عاقلہ ایشیا‘ ہے اگر آپ ہر دو ماہ بعد شائع ہونے والے اس میگزین کی ورق گردانی کریں تو یہ آپ کو اس خطے میں خاص طور پر خواتین کے لئے شائع ہونے والے دوسرے رسالوں سے بالکل مختلف لگے گا۔

default

عاقلہ ایشیا بڑے شہروں میں رہنے والی جدید دور کی مسلم خواتین کا جرہدہ ہے

اس میگزین کے صفحات پر مشہور کمپنیوں کے بہت مہنگے ہینڈ بیگز اور جدید ترین کاروں کے اشتہارات کے علاوہ سروں پر سکارف پہننے والی مسلمان ماڈلز بھی نظر آتی ہیں اور ایسے مضامین بھی جن میں مسلم خواتین کی جنسی صحت اور کنوارپن کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ہر دو ماہ بعد شائع ہونے والے اس جریدے کے نام کا عربی زبان میں مطلب ہے ’ذہین عورت۔‘ میگزین عاقلہ ایشیا کی ایک پبلشر ’لیانا روزنیتا‘ ہیں جو سنگاپور کی رہنے والی ایک مسلمان ہیں اور ان کے خاوند کا تعلق سوئٹزر لینڈ سے ہے۔

مسلمان خواتین اور جنس کے بارے میں شائع ہونے والے اس جریدے کے دفاترجنوب مشرقی ایشیا میں دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ اورسنگاپور میں مختلف جگہوں پر قائم ہیں۔ جکارتہ کی رہنے والی لیانا نے ایک انٹرویو میں کہا ’’ کہ ہم روایتی خیالات پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر کچھ لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ مسلمان خواتین معاشرتی روایات میں کچھ پیچھے ہیں یا وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کامیاب نہیں ہیں، یا وہ ایک اعلیٰ پیشہ ور زندگی یا طرز زندگی اپنانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں تو ان کی یہ منفی سوچ بالکل غلط ہے۔ اصل میں حقیقت اس کے بر عکس ہے۔‘‘

عاقلہ ایشیا کے بیان کے مطابق دوسرے ایشیائی روایتی مسلم جریدوں کے موضوعات کا مرکز، پڑھنے والوں کی عام زندگی سے ہٹ کر اور اکثر مذہبی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا میں مسلمان قارئین کے لئے چار مختلف رسالے شائع ہوتے ہیں اور چاروں ہی کے موضوعات زیادہ تر مذہبی ہوتے ہیں۔ عاقلہ ایشیا کے برینڈنگ ڈائریکٹرHarris نے کہا کہ ان رسالوں میں کو ئی ماڈل نظر نہیں آتے، ان کی اشاعت ابھی بھی پرانی وضع کی ہے۔

Kosovo Studentinnen Kopftuch Frauen

عاقلہ کے ناشرین کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ آگہی کے لئے جنسی موضوعات پر بھی تفصیلی مضامین شائع کرتے ہیں

لیلیٰ احمد جو خود نامہ نگار بھی ہیں کہتی ہیں کہ عاقلہ ایشیا جریدے کے سرورق پر بہت متنازعہ موضوعات کو جگہ دی جاتی ہے، جیسا کہ جسم کے کچھ حصوں کی دوبارہ تعمیر اور مسلمان عورتوں کا شادی سے پہلے کنوار پن۔ ایسے مسائل کوزیر بحث لانے سے مسلم خواتین قارئین کو خود مختار ی اور حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ لیلیٰ احمد جو عاقلہ ایشیا کی دوسری نامہ نگاروں کی طرح خود ایک مسلمان خاتون ہیں، کہتی ہیں کہ میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ہمارے اس میگزین میں شائع ہونے والے مضامین کے ذریعے مسلمان خواتین میں ہمت پیدا ہوتی ہے کیونکہ پوری دنیا کی مسلمان خواتین کو ایک ہی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

لیلیٰ جو پبلشر لیانا کی طرح اپنے سر کو ایک رومال سے ڈھانپے رکھتی ہے ،اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتی ہیں ’’ کہ عاقلہ ایشیا ، میں ہم اپنے مضامین میں مسلمان خواتین کے ایسے مسائل کو زیر بحث لاتے ہیں جن کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ موضوعات مسلمان خواتین کے مسائل ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو جریدہ خواتین کی اپنی آواز ہے ، خواتین خود ان مسائل پر بات کرنا معیوب سمجھتی ہوں تاہم ہم ان کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔‘‘

اس میگزین کی اشاعت پہلی بارمارچ میں شروع کی گئی اور اس کی تین لاکھ کاپیاں سنگا پور اور ملائیشیا میں فروخت ہوئیں۔ اب اس بارے میں بھی سوچا جارہا ہے کہ دنیا کی آخری قدامت پسند بادشاہت ریاست برونائی میں بھی اس رسالے کی اشاعت شروع کی جائے ۔

عاقلہ ایشیا نہ صرف ایک جریدہ ہے بلکہ اس کی اپنی ایک ویب سائٹ بھی ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں سے متعلق تازہ ترین خبریں، کہانیاں اور تصویریں بھی ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں پائے جانے والی مسلمان برادریوں کی طرف سے بنائے گئے ویڈیو کلپ بھی اس ویب سائٹ کا حصہ ہیں۔ اس ویب سائٹ پر آن لائن خریدو فروخت کے بارے میں بھی بات چیت ہوتی ہے کہ کیا پڑھنے والے ایسی مصنوعات خریدیں گے جو مسلمانوں کی اخلاقی قدروں کے مطابق تیار نہ کی گئی ہوں۔

FLASH-GALERIE Iran Models shahrareh kakvan

اس میگزین میں ماڈلنگ کرنے والی بھی زیادہ تر مسلم خواتین ہوتی ہیں

اس جریدے کا سوشل نیٹ ورک فیس بک پر بھی اپنا ایک پیج ہے جس کے دنیا بھر سے تقریباً سترہ ہزار شائقین بھی ہیں اور ٹیوٹرنیٹ ورک پر بھی اس کا اپنا ایک بلاگ اکاونٹ ہے۔

مئی اور جون کے شمارے میں مسلمانوں کے عقیدے کو موضوع بنایا گیا جس میں ایک آن لائن پروڈکٹ جو کہ مسلمانوں کی مذہبی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی اورآرام و آسائش اور جنسی طاقت بڑھانے والی ادویات وغیرہ کی فروخت کے بارے میں بحث کی گئی۔

اسلام میں حلال کا مطلب ہوتا ہے ایسی قدریں جو اسلامی اخلاقیات کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔ Sandy Tjahja کے مطابق عاقلہ اس بات پر پوری توجہ دیتا ہے کہ کسی بھی موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے اخلاقیات کی حدود سے باہر نہ جائیں اور مسلمانوں کی اقدار کو مدنظر رکھا جائے کہ کونسی کھانے کی چیز جائز ہے اور کونسا کام کرنا منع ہے۔ وہ کہتی ہیں '' ہم قارئین کی ضروریات اور قوت برداشت کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔‘‘

اس جریدے میں جن مسلمان خواتین ماڈلز کی تصاویر چھپتی ہیں وہ ایسے لباس جو جدید فیشن کے مطابق ہوں مگر مسلمانوں کی اقدار کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں پہنے ہوئے ہوتی ہیں اور ایسے حساس نازک موضوعات کو زیر بحث لاتے ہوئے بہت محتاط ہوتی ہیں لیانا نے کہا کہ'' اصل میں ہمارے قارئین اِن موضوعات کو پڑھ کر خود اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔‘‘

تیئس سالہ Juanini Johari جنہوں نے سنگاپور یونیورسٹی سے حال ہی میں گریجوایشن کی ہے، اس جریدے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کی اشاعت ایک خوش آئند بات ہے کہ یہ جریدہ خواتین کے ایسے مسائل کو بحث کے لئے موضوع بناتا ہے جو دور جدید میں مسلمان خواتین کے مسائل کا مؤثر حل بھی ہو اور ماڈرن وقت کے ساتھ چلنے کے قابل بھی بنائے۔

یہی موضوع اگر کوئی دوسرا میگزین لکھتا ہے تو ان کا طرز تحریر ذرا سخت ہوتا ہے۔ عاقلہ کے عنوان سے شائع ہونے والا یہ جریدہ اہم سے اہم موضوع کو بھی نہایت لطیف انداز میں پیش کرتا ہے۔

رپورٹ: سائرہ حسن شییخ

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM