1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

نائن الیون اور اس کے عالمی اثرات

مسلم انتہا پسندوں کی دہشت گردی کے خلاف یورپی اشتراک عمل

یورپ یونین کے انسداد دہشت گردی کے اشتراک عمل میں مسلم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس مہم میں یورپی باشندوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انسداد دہشت گردی کیے کاموں کے لیے ایک رابطہ کار مقرر ہے۔

default

انسداد دہشت گردی کے لیے یورپی اشتراک عمل نائن الیون کے بہت بعد تک حقیقت سے زیادہ مطالبہ تھا۔ مارچ 2004ء میں میڈرڈ میں ہونے والے بم حملوں کے بعد، جن کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک ہوئے تھے، یورپی یونین نے انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار، ولندیزی سیاستدان Gijs de Vries کو اس عہدے پر مقررکیا تھا۔ انہوں نے اپنے فرائض کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا، ’معلومات کا تبادلہ بہت ضروری ہے۔ یورو پول کے ذریعے ہم پولیس کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ آپس میں معلومات کا تبادلہ کریں۔ اسی طرح ہمارے اٹارنیز کو بھی یہ اجازت ہے کہ وہ یورپی عدلیہ کے اشتراک، ’یورو جسٹ‘ کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔ ہم دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے مالی ذرائع کے خلاف قوانین وضع کرتے ہیں اور اس کام میں عالمی تعاون ضروری ہے۔

Mutmaßliche Attentäter von London, Bilder einer Überwachungskamera

جولائی 2005 ء میں لندن میں ہونے والے بم حملوں میں ملوث مبینہ دہشت گرد


بن لادن کی موت سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی

اشتراک عمل اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے باوجود جولائی 2005ء میں لندن کے زیر زمین ٹرین اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکے کو نہیں روکا جا سکا۔ اس کارروائی میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تب سے یورپ میں قدرے سکون پایا جاتا ہے اور پولیس اور خفیہ سروسز کا ماننا ہے کہ انہوں نے متعدد دہشت گردانہ حملے نہیں ہونے دیے۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے ایک معاون کار، ولندیزی سیاستدان Gijs de Vries کے جانشین، بیلجیم سے تعلق رکھنے والے Gilles de Kerchove تاہم ہمیشہ سے سکیورٹی کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمی سے متنبہ کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی۔ اُن کے بقول، ’القاعدہ کے چوٹی کے اہلکار گزشتہ چند سالوں کے دوران یقیناً بہت غیر مقبول ہوئے ہیں۔ اب یہ اور کمزور ہو گئے ہیں۔ تاہم اسامہ بن لادن کی قیادت سے محروم ہونے والی یہ دہشت گرد تنظیم اب بھی اپنے سابق رہنما کو اپنی علامت سمجھتی ہے اور بن لادن بحیثیت شخصیت اتنی جلدی نہیں بھلایا جا سکے گا۔

کیا انسداد دہشت گردی عوام کو مکمل نگرانی فراہم کر سکتی ہے؟

ابتداء ہی سے انسداد دہشت گردی کے یورپی ادارے کے بہت سے ناقدین تھے۔ عوامی مقامات پر کیمرے نصب کرنے کا معاملہ ہو، ایئرپورٹ پر سکیورٹی کے انتظامات میں سختی ہو یا چھان بین کے لیے جمع کیے جانے والے کوائف save یا جمع کرنے کا عمل اور ان کے تبادلے کا معاملہ، یورپ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات شخصی آزادیوں کو صلب کرنے اور انفرادی سطح پر نجی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔

Muslime in deutschen Gefängnissen

جرمن جیلوں میں مقید مسلم باشندے

یورپی پارلیمان میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے سربراہ Jan-Philipp Albrecht نے ان قوانین پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔ اُن کے بقول، ’ہمیں یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو اُن کے مؤثر ہونے کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے اور ایسے قوانین و ضوابط جو انتہائی گرما گرم ماحول اور نہایت عجلت میں بنائے گئے ہیں، انہیں واپس لیا جائے۔ مثلاً ٹیلی مواصلاتی کوائف کو جمع کرنے کا قانون۔


مزید کوائف اور کوائف کی زیادہ حفاظت بھی

اس بارے میں ہونے والی بحث زیادہ تر سکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان ایک توازن کے ارد گرد ہی گردش کرتی رہتی ہے۔ Kerchove کے مطابق، ’خطرات کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے۔ اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ کوائف اکھٹا کرنے چاہیئں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’مسئلہ یہ ہے کہ مشتبہ افراد کے بارے میں اکثر و بیشتر پولیس اور خفیہ سروسز کو علم نہیں ہوتا۔ اس لیے مشتبہ افراد کے سفری کوائف، اُن کے طور طریقے، خرید و فروخت کے سلسلے میں پیسوں کی ادائیگی کے طریقے اور اُن کی مشکوک ٹیلی فون کالز کی اچھی طرح چھان بین ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں کوائف کے تحفظ کو بھی بہتر بنانا چاہیے۔‘

Ueberwachungskameras im Vatikan

ویٹی کن سٹی کی حفاظت کے لیے نصب خفیہ کیمرے

De Kerchove کا عہدہ دراصل سرکاری عہدہ ہے، یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار کا۔ جس کا مطلب ہے پہلے کی طرح اب بھی اولین ترجیح قومی سلامتی ہے، جسے رابطہ کاری کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

بیلجیم سے تعلق رکھنے والے Gilles de Kerchove کا ماننا ہے کہ لزبن معاہدے کے ذریعے وقت کے ساتھ ساتھ چند ذمہ داریوں کو ایک کمیشن کی شکل دی گئی ہے۔

رپورٹ: کرسٹوف ہاسل باخ / کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس