1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمان ملائیشین نوجوانوں کے لیے ’حلال سپیڈ ڈیٹنگ‘

ملائیشیا کے دارالحکومت میں ایک ادارے نے نوجوان مسلمان لڑکے لڑکیوں کے لیے ’اسپیڈ ڈیٹنگ‘ متعارف کروائی ہے۔ لڑکیاں ڈیٹنگ مرکز میں اپنے ولی کے ساتھ آتی ہیں۔

سر پر سکارف لیے اور پورے کپڑوں میں ملبوس چوبیس سالہ نورنادلی اٰڈلینا بڑے غور سے کچھ لکھ رہی ہے جبکہ ایک آدمی اس کے سامنے بیٹھا ہوا اپنا تعارف کرا رہا ہے۔ یہ دونوں کوالا لمپور میں ’حلال سپیڈ ڈیٹنگ ‘ کی ایک ایسی تقریب میں بیٹھے ہوئے ہیں جس میں نوجوان ملا ئیشین مسلمان اپنے لیے جیون ساتھی ڈھونڈرہے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ملائیشیا کے سماج میں پیار و محبت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور زیادہ تر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

نوجوان لڑکوں سے ملاقات کے لیے آنے والی لڑکیاں اپنے ولی کے ساتھ آتی ہیں اور اِس طرح اِس ڈیٹنگ کو اسلامی قانون کے تحت ایک جائز اور حلال سروس بنا دیا گیا ہے۔ ڈیٹنگ سینٹر میں لڑکی کی شادی اُس وقت تک طے نہیں ہوتی جب تک اُس کا ولی موجود نہ ہو اور اُس کی اجازت لازمی ہے۔ اب تک حلال ڈیٹنگ کی دو تقریبات کا اہتمام کوالا لمپور میں کیا جا چکا ہے۔ مئی میں ہونے والی پہلی تقریب 80 لوگوں نے شرکت کی اور دوسری میں 60 افراد شریک ہوئے۔

نورنادلی کا کہنا ہے کہ’ میں اپنے والدین کو ساتھ لائی ہوں کیونکہ میرے خیال میں یہی وہ بہترین لوگ ہیں جو کسی کو تلاش کرنے میں میری رہنمائی کریں گے۔‘ اُس کے مطابق وہ اپنے لیے ایسے جیون ساتھی کی تلاش میں ہے جو مجھے ایسے ہی قبول کرے جیسی وہ ہے۔

Malaysia Frauen Mode Symbolbild

ملا ئیشیا میں حجاب اوڑھنا عام معاشرتی آداب کا حصہ ہے

ملائیشیا بڑی حد تک اعتدال پسند اسلامی ملک ہے جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ بہت سے ملائے نوجوان فیس بک اور ڈیٹنگ ایپس سائٹس پر ملتے ہیں لیکن ملا ئیشیا میں مسلمان نوجواںوں کے لیے اِس انداز میں رابطہ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ملائیشین معاشرے میں شادی سے پہلے پیار اور دوستی کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔ حلال سپیڈ ڈیٹنگ کے بانی کہتے ہیں کہ ہمارے زیادہ تر صارفین کو یہ امید ہے کہ ان کو جیون ساتھی مل جائے گا۔ ایک صارف ممکنہ طور پر تین لوگوں کو اپنے لیے پسند کر سکتا ہے لیکن اسلامی اصولوں کے مطابق ایک وقت میں صرف ایک سے شادی کی بات چلا سکتا ہے۔

حلال سپیڈ ڈیٹنگ کے شریک بانی34 سالہ ذہری یوہائی اور 41 سالہ نور حیاتی اسماعیل ہیں اور اُن کے مطابق یہ کوئی امریکی ڈیٹنگ مرکز نہیں ہے کہ مفت اور آسانی سے جیون ساتھی ڈھونڈنے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ اسماعیل کے مطابق عام تعلقات کی بجائے حلال سپیڈ ڈیٹنگ ایک باوقار اور لڑکے لڑکیوں کے والدین کی نگرانی میں شادی کی نیت سے ملاقات کروائی جاتی ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ اِس عمل سے ملائیشین معاشرے میں شادی سے پہلے قائم ہونے والے جنسی تعلقات اور زنا کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔