1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمان، مساجد اور مینار جرمنی کا حصہ ہیں، بشپ بوڈے

جرمنی میں اسلام اور مساجد کی تعمیر سے متعلق جاری متنازعہ بحث میں اوسنابروک کے بشپ بوڈے نے کہا ہے کہ جرمنی میں آباد مسلمان مقامی معاشرے کا حصہ ہیں اور جب وہ مساجد تعمیر کریں گے تو مینار بھی ان عبادت گاہوں کا حصہ ہوں گے۔

Deutschland Zentralmoschee Köln Ehrenfeld

کولون میں مسلمانوں کی کچھ عرصہ قبل تعمیر کردہ مرکزی مسجد

وفاقی دارالحکومت برلن سے ہفتہ اکیس مئی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق بشپ آف اوسنابروک فرانس یوزیف بوڈے نے واضح طور پر اعتراف کیا کہ مسلمان اور ان کی مساجد کے مینار آج کے جرمنی کا حصہ ہیں، جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

جرمن روزنامے ’نوئے اوسنابروکر سائٹنگ‘ میں آج شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں بشپ بوڈے نے کہا، ’’مساجد کی تعمیر کے وقت میناروں کی تعمیر بھی ان کا حصہ ہوتی ہے۔ مسجدوں کی تعمیر کا ان کے میناروں کی تعمیر سے وہی تعلق ہے جو کسی کلیسا کی تعمیر کا کلیسائی مینار کی تعمیر سے ہوتا ہے۔‘‘

اس انٹرویو میں اوسنابروک کے کیتھولک بشپ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں جرمن معاشرے میں مسلمان تارکین وطن کے سماجی انضمام کے عمل میں مزید بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ انہوں نے کہا، ’’بچوں اور خاندانوں سے متعلق اپنے دوستانہ رویوں میں ہر کسی کو مزید بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ جرمنی میں کیتھولک کلیسا کی اہم ترین مذہبی شخصیات میں سے ایک بشپ بوڈے کے مطابق، ’’کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اسلام کی ساکھ کو منفی بنا کر پیش کرے، جیسا کہ تارکین وطن اور اسلام کی مخالف دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔‘‘

Bischof Franz-Josef Bode

جرمن شہر اوسنابروک کے کیتھولک بشپ بوڈے

اسی انٹرویو میں اس کیتھولک کلیسائی رہنما نے مزید کہا کہ اس امر کی ’کوئی وجہ موجود نہیں کہ ایک مذہب کے طور پر اسلام سے خوف کھایا جائے‘۔ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ذاتی طور پر مجھے صرف اس اسلام سے خوف آتا ہے، جس میں بنیاد پرست عناصر انتہا پسندانہ طریقے سے قرآن کی تشریح کرتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ ’ان کا اسلام‘ دیگر مذاہب پر غالب آتے ہوئے انہیں خود میں شامل کر لے۔‘‘

بشپ بوڈے نے اس بات کی بھی وکالت کی کہ جرمنی کے سیکولر معاشرے میں مذہب اور ثقافت کے طور پر اسلام کے بارے میں زیادہ ٹھوس اور جامع بحث مباحثہ کیا جانا چاہیے تاکہ جرمن معاشرے کی اکثریتی آبادی میں اسلام کی تفہیم میں گہرائی لائی جا سکے۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اگلے 20 برسوں میں جرمنی میں کلیسا خالی ہو جائیں گے اور ملکی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی، فرانس یوزیف بوڈے نے کہا، ’’حقائق کی بنیاد پر مجھے ایسی کوئی توقع نہیں کہ آئندہ برسوں میں جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی میں کسی دھماکے کی طرح کوئی یکدم اور بہت بڑا اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات