1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمان مبلغ کے لیے جرمنی سے نکل جانے کا حکم

جرمنی نے سخت گیر مؤقف کے حامل مسلمان مبلغ کو تین دن کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس امام کو ہم جنس پرستوں اور سزائے موت پر متنازعہ نظریات کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔

default

کینیڈین نژاد مبلغ بلال فلپس

پولیس کا کہنا ہے کہ ابو امینہ بلال فلپس نے بدھ کو فرینکفرٹ میں ایک اجتماع سے خطاب کیا، جس کے بعد انہیں ملک سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا گیا۔

فلپس کو ہم جنس پرستی پر انتہاپسندانہ نظریات کی وجہ سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ سر عام پھانسی دیے جانے کے بھی حامی ہیں۔ خبررساں ادارے اے ایف پی نے فلپس کی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہم جنس پرستی کو ایک برائی اور معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سزائے موت پر سرعام عمل درآمد کرنے سے جرائم کی شرح کم رہتی ہے۔

انہوں نے فرینکفرٹ میں بدھ کو تقریباﹰ دو ہزار مسلمانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے ہم جنس پرستی کے بارے میں اپنے مؤقف کا اعادہ نہیں کیا۔ وہاں تقریباﹰ پانچ سو افراد نے ان کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ فلپس کے لیے ملک چھوڑنے کے احکامات فرینکفرٹ کے اجتماع سے پہلے تیار کر لیے گئے تھے۔ انہیں ہفتہ کی شب تک ملک چھوڑنے کے ساتھ دوبارہ کبھی جرمنی نہ آنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فلپس جرمنی سے نکل جانے کے حکم نامے کو چیلنج کر سکتے ہیں تاہم جرمن سرزمین پر انہیں اپیل کا حق حاصل نہیں۔

Islamisten in Tunesien

تیونس میں کٹر مسلمانوں کا اجتماع

جرمن ایمیگریشن قوانین کے مطابق ایسے غیرملکیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا جا سکتا ہے، جو آبادی کے کسی حصے کے خلاف نفرت پھیلائیں یا ان کے خلاف تشدد کا پرچار کریں۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بلال فلپس کا ایک ویڈیو پیغام یوٹیوب پر موجود ہے، جس میں انہوں نے ہم جنس پرستی ثابت ہونے پر سزائے موت کی حمایت کی ہے۔

دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کے گروپ فلپس کی تقریروں کے خلاف بارہا احتجاج کر چکے ہیں۔ بلال فلپس 1947ء میں جمیکا میں پیدا ہوئے لیکن ان کی پرورش کینیڈا میں ہوئی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس