1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلمان زائرین حج کے لیے میدان عرفات میں

قریب دو ملین مسلمان زائرین آج میدان عرفات میں جمع ہیں۔ سعودی شہر مکہ کے نواح میں واقع میدان عرفات میں نو ذی الحج کو وقوف عرفات اور حج کا خطبہ سننا اِس عبادت کا لازمی جزو ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سعودی حکام کی طرف سے حج کے پانچ دنوں کے دوران مسلمانوں کے لیے مقدس مقامات کی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ سکیورٹی بڑھانے کا ایک مقصد گزشتہ برس پیش آنے والے سانحے کی طرح کسی بھگدڑ وغیرہ سے بچنا بھی ہے۔

سعودی وزرات خارجہ کے ایک ترجمان منصور الترکی کے مطابق رواں برس حج کا یہ ایونٹ ابھی تک بغیر کسی مسئلے یا مشکل کے جاری ہے۔ حج کی رسومات کا آغاز ہفتہ 10 ستمبر سے شروع ہوا تھا جب دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کرام وادی مِنیٰ میں جمع ہوئے اور وہیں کیمپوں میں رات گزاری۔

سفید احرام باندھے حاجی آج اتوار 11 ستمبر کو طلوع آفتاب کے ساتھ ہی وادی مِنیٰ سے میدان عرفات پہنچنا شروع ہو گئے۔ منیٰ سے میدان عرفات کا فاصلہ قریب 15 کلومیٹر ہے۔ حجاج کرام عرفات میں دن گزارنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ رات گزاریں گے۔ پیر 10 ذی الحج کو طلوع آفتاب کے بعد حاجی مزدلفہ سے واپس وادی مِنیٰ کے لیے روانہ ہو جائیں گے اور جمرات میں علامتی طور پر شیاطین کو کنکریاں ماریں گے۔

حجاج کرام عرفات میں دن گزارنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ رات گزاریں گے

حجاج کرام عرفات میں دن گزارنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ رات گزاریں گے

گزشتہ برس جمرات ہی کے قریب بھگڈر کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد حاجی ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈی پی اے کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 769 بتائی گئی تھی۔

سعودی حکام کے مطابق رواں برس قریب 18 لاکھ مسلمان فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ ان میں سے 1.3 ملین مسلمان دنیا کے 164 ممالک سے سعودی عرب پہنچے ہیں جبکہ بقیہ سعودی عرب ہی میں موجود حاجی ہیں۔

حج مسلمانوں کے لیے اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان پر، اگر وہ جسمانی اور مالی طور پر سکت رکھتا ہو تو ایک بار حج کرنا لازمی ہے۔