1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمان بچوں کی تعلیم، مشنری اسکولوں میں

ایک وقت تھا کہ جرمن دارالحکومت برلن کے علاقے ویڈنگ میں محنت کش طبقہ رہتا تھا اور اس علاقے میں بسنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق پروٹسٹنٹ چرچ سے تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس علاقے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

default

بہت سے مسلمان تارکین وطن کے یہاں منتقل ہونے کی وجہ سے عیسائی اب اقلیت میں ہیں۔ یہاں پر گرجا گھروں کی طرف سے قائم نرسری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ اسی علاقے میں ایک اسٹیفن چرچ نرسری اسکول پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے قائم کر رکھا ہے، جس میں تعلیم حاصل کرنے والا ہر دوسرا بچہ مسلمان ہے۔ اس اسکول میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں بھی تعلیم دی جاتی ہے، مسلمان بچوں کے عقائد کو ٹھیس پہنچائے بغیر تعلیم دینا گرجا گھر کے اس اسکول کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

Sorbische Kita

گرجا گھروں کی طرف سے قائم نرسری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے

ساڑھے دس بجے کے بعد برلن کے علاقے ویڈنگ میں واقع اسٹیفن چرچ میں پادری مائیکل گلاٹر ملحق نرسری اسکول کے بچوں کے ہمراہ دعائیہ تقریب کے لیے جمع ہیں۔ ایک اچھے دن کی شروعات کے لیے سب مل کر ایک دعائیہ گانا گا رہے ہیں۔ بیالیس سالہ پادری گلاٹر کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایک طرف تو وہ عیسائی مذہب کی تعلیمات دینا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ کسی کے مذہب میں مداخلت بھی نہیں کرنا چاہتے۔

یہاں پر موجود 80 بچوں میں سے بہت سے بچوں کا تعلق مسلمان خاندانوں سے ہے۔ کچھ بچوں کا کوئی بھی مذہب نہیں ہے، جبکہ بہت کم بچے پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں۔ پادری گلاٹر ایک ایسے خدا کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں، جو نہ صرف تمام بچوں بلکہ ان کے والدین کے لیے قابل قبول ہو، ’’میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ خدا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے، جس سے ڈرا جائے بلکہ خدا وہ ہے، جو انسانوں سے بہت پیار کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان ایک دوسرے کے دوست بنیں، ایک دوسرے کو معاف کریں اور صلح صفائی سے رہیں نہ کہ جنگ اور تشدد کریں۔‘‘

Deutschland Kindertagesstätte in Frankfurt Oder

یہاں پر موجود 80 بچوں میں سے بہت سے بچوں کا تعلق مسلمان خاندانوں سے ہے

پادری گلاٹر کو اس وقت سب سے زیادہ مشکل پیش آتی ہے، جب وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ حضرت عیسی کا قرآن میں بھی ذکر آیا ہے اور اسلام کے مطابق وہ ایک پیغمبر ہیں۔ مسلمان اس تصور کو رد کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں۔ گلاٹر کے مطابق وہ کم ہی اس تصور کے بارے میں بات کرتے ہیں، ’’میرے مطابق اس طرح بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس سے نئے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور ویسے بھی یہ مسئلہ سمجھنے میں بچوں کو دشواری پیش آ سکتی ہے۔‘‘

پادری گلاٹر کی انتہائی احتیاط کے باوجود وہ سجمھتے ہیں کہ بہت سے مذہبی والدین اپنے بچوں کو گرجا گھر کے اس نرسری اسکول میں بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ اس اسکول کا عیسائی مذہب کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے۔ گلاٹر کے مطابق بنیادی طور پر اعتدال پسند مسلمان ہی اس اسکول کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہی مسلمانوں میں ایک حسین ایرن بھی ہیں، جو کافی عرصہ پہلے ترکی سے کام کی غرض سے جرمنی آئے تھے۔

بتیس سالہ حسین ایرن ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور پنجگانہ نماز ادا کرتے ہیں۔ ابھی وہ اس نرسری اسکول سے اپنی بیٹی اسماء کو لینے آئیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’یہ ایک چرچ کا اسکول ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عیسیٰ کو ہم بھی پیغمبر مانتے ہیں۔ ہمیں چرچ میں جانے سے منع بھی نہیں کیا گیا۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میرے خیال میں اس نر سری اسکول میں کسی برائی کی تعلیم نہیں دی جاتی، بلکہ یہاں انسانیت اور اچھے اخلاق کے بارے میں بتایا جاتا ہے اور اسے ہمیں اچھے معنوں میں لینا چاہیے۔‘‘

حسین اس اسکول کی طرف سے چرچ میں کی جانے والی دعائیہ تقریبات میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ جن میں شمولیت کے لیے بچوں اور ان کے والدین کو دعوت دی جاتی ہے۔ لیکن پادری گلاٹر کے مطابق بہت کم والدین ہی دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے ان کا دعوت نامہ قبول کرتے ہیں۔

رپورٹ: جان کوہل مان / امتیاز احمد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM