1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلمان امریکی ڈاکٹر گورنری کے حصول کے لیے کوشاں

کسی بھی امریکی ریاست کے گورنر کے منصب پر کبھی کوئی مسلمان فائز نہیں ہو سکا ہے۔ اب ایک مسلمان ڈاکٹر اس کوشش میں ہے کہ وہ میشیگن ریاست میں گورنر کے الیکشن میں شریک ہو کر کامیابی حاصل کر سکے۔

ڈاکٹر عبدالرحمان محمد السید وباؤں کے ماہر ڈاکٹر ہے۔ اُن کو عام طور پر ڈاکٹرعبدل السید کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بتیس سالہ مصری نژاد ڈاکٹر کی پیدائش اسی امریکی ریاست کے شہر ڈیرائٹ میں سن 1984 میں ہوئی تھی۔ وہ امریکا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ وہ اگلے برس کے ریاستی گورنر کے الیکشن میں امیدوار بننے کی کوشش میں ہیں۔

ہزاروں امریکی حاجی، ٹرمپ کی پابندیوں پر تشویش میں مبتلا

امریکا میں نماز فجر کے وقت مسجد پر بم حملہ

امریکی سپریم کورٹ نے مسلمانوں پر سفری پابندیاں بحال کر دیں

مسلم انتہا پسندی کا شدت سے مقابلہ کرنا ضروری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ڈاکٹرعبدل السید نے اپنی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے کسی بھی کمپنی یا ادارے سے انتخابی مہم کے لیے چندہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ انفرادی سطح پر انہیں انتہائی قلیل عرصے میں دس لاکھ ڈالر کا چندہ عام لوگوں کی جانب سے دیا گیا ہے اور امریکی سیاسی حلقے اس کو انتہائی غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں۔ ابھی اُن کی انتخابی مہم ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اس ریاست کی گورنری کے الیکشن کے لیے انہیں اپنی پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے تین دوسرے امیدواروں کا سامنا ہے۔ ریاست کے اندر ہونے والے بنیادی پارٹی الیکشن میں کامیابی کی صورت ہی میں انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے گا۔ میشیگن کی گورنری کے حصول میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی جانب سے بھی تین امیدوار میدان میں ہیں۔ حتمی مقابلہ دو امیدواروں میں ہو گا جنہیں پارٹیوں کا ٹکٹ دیا جائے گا۔

USA Dr. Abdul El-Sayed (picture-alliance/AP Photo/C. Tabb Jr.)

ڈاکٹر عبدل السید کے والد کا تعلق مصر سے ہے لیکن وہ ڈیٹرائٹ میں پیدا ہوئے تھے

اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر عبدل السید کا کہنا ہے کہ عام لوگ یقینی طور پر سیاسی میدان میں تازگی اور جوش و خروش کے متمنی ہیں اور وہ اُن کی امیدوں کا محور بننے کی تمام صلاحیتیں رکھتے ہیں۔

ڈیٹرائٹ شہر کو دیوالیہ پن کا سامنا ہے اور اس شہر کی مالی بدحالی ختم کرنے والوں میں ہیلتھ سیکٹر بھی پیش پیش ہے اور اس شعبے میں ڈاکٹر عبدل السید اگلی قطار میں کھڑے خیال کیے جاتے ہیں۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات اگلے برس یعنی سن 2018 میں ہوں گے۔ ان انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا امتحان تصور کیا جائے گا اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اُن کی متعارف شدہ پالیسیوں کو کتنی عوامی پذیراسی حاصل ہو سکی ہے۔

امریکا میں میشیگن وہ ریاست ہے، جہاں سب سے زیادہ عرب ملکوں کے تارکین وطن آباد ہیں۔

DW.COM