1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمان امریکی فوجیوں سے بدسلوکی، تربیتی سربراہ کو سزائے قید

امریکی فوج کے ایک تربیتی سربراہ کو اس لیے دس سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا کہ وہ طویل عرصے تک اپنے زیر تربیت ہم وطن لیکن مسلمان فوجیوں سے دانستہ طور پر برا برتاؤ کرتا رہا تھا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے اتوار بارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ امریکی فوجی اہلکار میرین کور کے پیدل دستوں کا ایک انڈر آفیسر تھا، جو نئے بھرتی کیے گئے امریکی فوجیوں کی تربیت کے عمل کا نگران بھی تھا۔

امریکا کی پہلی مسلمان خاتون جج  کی لاش دریائے ہڈسن سے برآمد

’نابینا شیخ‘ کا امریکی جیل میں انتقال

امریکا میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان جج نامزد

یہ ملزم ایک بظاہر منظم طریقے سے اپنے زیر تربیت مسلمان فوجیوں سے بدسلوکی کا مرتکب ہوتا رہا تھا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اسے جمعہ دس نومبر کو سزائے قید اور فوج کی ملازمت سے برطرفی کا حکم ایک فوجی عدالت نے سنایا۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی میرین انفنٹری کے اس چیف ٹرینر پر الزام تھا کہ وہ ریاست جنوبی کیرولائنا میں پیرس آئی لینڈ کے مقام پر ایک فوجی اڈے پر قائم ٹریننگ سینٹر پر خاص طور پر نئے بھرتی ہونے والے مسلمان فوجیوں سے بدسلوکی کرتا رہا تھا۔

US-Marines Frauen (Getty Images/S. Olson)

پیرس آئی لینڈ، جنوبی کیرولائنا، میں زیر تربیت خواتین میرینز کا ایک گروپ

اس طرح اس نے ایک درجن سے زائد امریکی مسلم فوجیوں سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے عمداﹰ برا برتاؤ کیا۔ ان میں سے ایک زیر تربیت مسلمان  فوجی پر تو اس نے تربیت کے نام پرہ اتنا تشدد کیا تھا کہ وہ اپنی تربیت گاہ کی دوسری منزل سے گر کر انتقال کر گیا تھا۔ بعد ازاں 2016ء میں پیش آنے والے اس واقعے کو ٹریننگ سینٹر کے ان اہلکاروں نے ’خودکشی‘ قرار دے دیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق اس مقدمے میں فوجی عدالت کی آٹھ مردوں اور خواتین پر مشتمل جیوری نے ملزم کے لیے دس سال کی سزائے قید کا جو فیصلہ سنایا، وہ زیادہ سے زیادہ سزائے قید کے استغاثہ کی طرف سے عدالت سے کیے گئے مطالبے سے بھی زیادہ ہے۔ استغاثہ نے کہا تھا کہ ملزم کو سات برس قید کی سزا سنائی جائے۔

اس مقدمے میں جس فوجی ٹرینر کو سزا سنائی گئی، وہ عراق کی جنگ میں امریکی میرین کور کی طرف سے حصہ لے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس مقدمے کے ملزمان کی کل تعداد چھ تھی، جو نئے بھرتی کیے گئے مسلمان فوجیوں سے زیادتیوں کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔

استغاثہ کے مطابق اس تربیتی بدسلوکی کے دوران ملزمان مسلمان فوجیو‌ں کو ’دہشت گرد‘ کہہ کر پکارتے تھے اور ان سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ بطور مذہب اسلام سے اپنی دستبرداری کا اعلان کریں۔ اس دوران دو زیر تربیت فوجیوں کو تو صنعتی پیمانے پر استعمال ہونے والے ایک واشنگ ڈرائر میں بھی بند کر دیا گیا تھا۔ پھر جب ڈرائر میں بند کیے گئے فوجیوں نے اسلام سے دستبرداری سے انکار کر دیا، تو ایک بار تو یہ ڈرائر چلا بھی دیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں ملزم کو سنائی گئی طویل سزائے قید اور امریکی فوج سے بے عزت انداز میں برطرفی کی وجہ سے ملزم کو مروجہ قانون کے مطابق خود بخود یہ حق بھی مل گیا ہے کہ وہ ایک ملٹری اپیل کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دے سکتا ہے۔

DW.COM