’مسلمان امریکیوں سے امتیازی سلوک کو مسترد کرتا ہوں‘، اوباما | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مسلمان امریکیوں سے امتیازی سلوک کو مسترد کرتا ہوں‘، اوباما

عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے امریکی صدر باراک اوباما نے آٹھ سال تک اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد شکاگو میں اپنے ہزارہا پُر جوش حامیوں کی تالیوں کی گونج میں اپنا الوداعی خطاب کیا ہے۔

اوباما نے، جو امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں، اپنے الوداعی جذباتی خطاب میں اٹھارہ ہزار حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:’’اب آپ کا شکریہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، آپ نے مجھے ایک بہتر صدر اور ایک بہتر انسان بنایا ہے۔‘‘ اس موقع پر اوباما نے امریکی عوام کے ساتھ ساتھ اہلِ خانہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا کے صدر کے طور پر فرائض انجام دینا اُن کے لیے ایک اعزاز کی بات تھی۔

اپنے اس الوداعی خطاب کے لیے اوباما نے شکاگو کی صورت میں اپنے اُسی آبائی شہر کا انتخاب کیا، جہاں سے اُنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر متحد رہنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت تبھی چل سکتی ہے، جب تمام شہری اپنی جماعتی وابستگی اور مفادات سے بالاتر ہو کر آپس میں یک جہتی کا اظہار کریں۔

اوباما نے کہا:’’جہاں ہمیں ایک طرف بیرونی دشمن کی جانب سے چوکنا رہنا چاہیے، وہیں ہمیں اُن اَقدار کو بھی کمزور ہونے سے بچانے کے لیے سرگرم رہنا چاہیے، جو ہمیں وہ کچھ بناتی ہیں، جو ہم ہیں۔‘‘

USA Präsident Barack Obama Abschiedsrede in Chicago (Picture-Alliance/AP Photo/C. R. Arbogast)

باراک اوباما شکاگو میں اپنے الوداعی خطاب کے دوران اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، اس تصویر میں وہ اپنے آنسو پونچھ رہے ہیں

 اوباما کے مطابق پہلے سیاہ فام صدر کے طور پر اُن کے انتخاب کے بعد عام تاثر یہ تھا کہ امریکا میں نسل پرستی ختم ہو چکی ہے تاہم اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے دورِ صدارت کے بعد بھی نسل پرستی ایک ایسی قوت ہے، جو قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اوباما نے البتہ یہ بھی کہا کہ نوجوان امریکیوں سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور ’ہاں، ہم یہ کر سکتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران سفید فام ملازمت پیشہ مردوں سے اپنے حق میں ووٹ  ڈالنے کی اپیلیں کرتے رہے اور اُن کی انتخابی کامیابی میں اس امر نے بھی جزوی طور پر اپنا کردار ادا کیا۔

 امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر اوباما کی جگہ بیس جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ عہدہٴ صدارت سنبھالیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے امریکا میں داخل ہونے پر عارضی پابندی عائد کرنے اور میکسیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں عالمگیر معاہدے اور صحت کے شعبے میں اوباما کی اعلان کردہ اصلاحات کو ختم کرنے کی بھی تجاویز پیش کی تھیں۔

اپنے الوداعی خطاب میں اوباما نے ان تمام معاملات میں اپنا موقف واضح طور پر پیش کیا اور کہا کہ اُن کا نقطہٴ نظر اب بھی وہی ہے، جو پہلے تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اب بھی پوچھ گچھ کے دوران تشدد کے استعمال کے خاتمے اور گوانتانامو حراستی کیمپ بند کیے جانے کے حق میں ہیں کیونکہ یہ اقدامات امریکی اَقدار کا علم بلند رکھنے کی مہم کا ایک حصہ ہیں۔ واضح طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اوباما نے حاضرین کی زبردست تالیوں کی گونج میں کہا:’’اور یہی وجہ ہے کہ مَیں مسلمان امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو مسترد کرتا ہوں۔‘‘

USA Präsident Barack Obama Abschiedsrede in Chicago (Picture-Alliance/AP Photo/C. R. Arbogast)

’اب وقت آ گیا ہے کہ مَیں آپ کا شکریہ ادا کروں‘، اوباما کا بطور صدراپنے آبائی شہر شکاگو میں الوداعی جذباتی خطاب

اس الوداعی خطاب کے موقع پر اوباما کی اہلیہ مِشیل اوباما، نائب صدر جو بائیڈن اور اُن کی اہلیہ جِل بائیڈن کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے کئی موجودہ اور سابقہ ارکان بھی موجود تھے۔ صدر کے طور پر شکاگو کا دورہ اوباما کا آخری دور تھا۔ صدارتی ذمہ داریاں اپنے جانشین ٹرمپ کو سونپے کے بعد بھی اوباما اگلے دو برس تک واشنگٹن ہی میں قیام کرنے کا ارادہ رکھتےہیں تاکہ اُن کی چھوٹی بیٹی ساشا اپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کر لے۔

اوباما کے بقول وہ بھی اپنے جانشین کو کام کرنے کی وہی کھُلی آزادی دینا چاہتے ہیں، جو اُن کے پیشرو جورج ڈبلیو بُش نے اُنہیں دی تھی اور اسی لیے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد وہ بھی جہاں تک ہو سکا، عوامی زندگی میں کم سے کم نظر آنے کی کوشش کریں گے۔