1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلمانوں کے قتل پر اکتیس ہندوؤں کے لیے سزائے عمر قید

بھارت کی ایک عدالت نے گجرات فسادات میں متعدد مسلمانوں کی ہلاکت کا جرم ثابت ہونے پر اکتیس ہندوؤں کے لیے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ اکتالیس افراد کو ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے رہا کر دیا گیا ہے۔

default

عمر قید کی سزا کا سامنا کرنے والے افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے گجرات میں فسادات کے دوران ایک عمارت کو نذرِ آتش کیا، جس کے نتیجے میں متعدد مسلمان ہلاک ہوئے۔ انہیں اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے۔ یہ فیصلہ احمد آباد کی عدالت کے جج ایس سی شری واستوا نے سنایا۔

تفصیلات کے مطابق فسادیوں نے کارروائی احمد آباد کے شمال میں پچیس میل دوری پر ضلع مہنسا کے ایک گاؤں میں کی تھی۔ وہاں انہوں نے ایک عمارت کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے میں بیس خواتین سمیت اکتیس مسلمان ہلاک ہو گئے تھے، جو فسادات سے بچنے کے لیے وہاں پناہ لیے ہوئے تھے۔

اس مقدمے کی سماعت بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات پر شروع ہوئی تھی جبکہ اس مقدمے کا سامنا کرنے والے دو مشتبہ افراد سماعت کے دوران پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی ریاست گجرات میں 2002ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے دوران فسادات ہوئے تھے۔ اس دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ انہیں مشتعل ہندوؤں نے ہلاک کیا تھا۔

Flash-Galerie Ramadan Indien

بھارت میں مسلمان مجموعی ملکی آبادی کا چودہ فیصد ہیں

یہ فسادات ایک ٹرین میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد شروع ہوئے، جس میں زیارت سے لوٹنے والے ساٹھ ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 1947ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تعلقات بڑی حد تک پراُمن رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے درمیان عدم اعتماد کی جڑیں گہری ہیں، جس کی وجہ سے کبھی کبھی پرتشدد واقعات رُونما ہوتے ہیں۔

بھارت کی آبادی ایک اعشاریہ ایک ارب ہے، جس کا چودہ فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ شرح تعلیم سے لے کر گھریلو آمدنی جیسے بیشتر سماجی اشاریوں میں وہ ہندوؤں سے بہت پیچھے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس