1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمن پارلیمانی انتخابات

مسلمانوں کے حوالے سے جرمن سیاسی جماعتیں کیا سوچ رکھتی ہیں؟

جرمنی میں ایک ایسے سروے کے نتائج شائع کیے گئے ہیں جس میں ملکی  سیاسی جماعتوں سے پوچھا گیا کہ  وہ اسلام اور ملک میں آباد مسلمانوں کے حوالے سے اہم معاملات پر کیا رائے رکھتی ہیں۔

یہ سروے جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں کی مختلف تنظیموں، سنٹرل کونسل آف مسلمز ان جرمنی، جرمن مسلم لیگ اور ’اسلامِشے زائیٹُنگ‘ نامی اخبار نے مل کر کرایا۔ اس سروے میں جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ  نومولود بچوں کے ختنے، جانوروں کی قربانی اور مسلمانوں کے لیے اہم دیگر امور پر کیا خیالات رکھتی ہیں۔

اس سروے کی غرض سے تمام اہم سیاسی جماعتوں کو سوال نامہ بھیجا گیا تھا اور دائیں بازو کی عوامیت پسند، مہاجرین مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے سوا سبھی سیاسی جماعتوں نے سوالات کے جوابات دیے۔

سروے کے پبلشرز ایمان مازیک، بلال الموگادیدی اور سلیمان ولمس کا کہنا ہے کہ ملکی انتخابات کے دوران جرمنی میں مختلف معاملات کے بارے میں سیاسی جماعتوں نے اپنے رائے عوام کے سامنے رکھی ہے لیکن ’ ایسے وقت جب  اسلام مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں، جرمنی میں بسنے والے مسلمان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی سیاسی جماعت مسلمانوں کے لیے اہم معاملات پر کیا خیالات رکھتی ہے۔

اس سروے میں بچوں کے ختنوں اور جانوروں کی قربانی جیسے متنازعہ معاملات پر بھی سوالات پوچھے گئے تھے۔ ان دو موضوعات کے حوالے سے لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں نے کہا کہ وہ جرمنی میں رائج موجودہ قوانین برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہیں۔

جرمن انتخابات میں تارکین وطن کے ووٹ فیصلہ کن ہو سکتے ہیں

کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بارے میں اہم حقائق

زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے کھل کر کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف معتصبانہ رویے کے خلاف ہیں۔  سیاسی جماعتیں سی ڈی یو اور سی ایس یو نے ایک سوال کے جواب میں مشترکہ طور پر لکھا،’’مسلمان کئی برسوں سے اپنی محنت سے جرمن معاشرے  میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمان بطور پولیس اہلکار، ڈاکٹرز، نرسز، کھلاڑی ، فائر فائٹرز اور اس کے علاوہ  بھی دیگر کئی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

جرمن چانسلر اہم ملکی و بين الاقوامی امور پر کيا رائے رکھتی ہيں؟

جرمنوں کے لیے دہشت گردی اور مہاجرت ’خطرات‘، مطالعاتی رپورٹ

اسی طرح ایک سوال کے جواب میں ایس پی ڈی نے لکھا،'' ایس پی ڈی مسلمان تنظیموں اور اہم مسلم شخصیات کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھتی ہے۔ گرجا گھروں، سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیموں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘

اس سروے کے مصنفین نے لکھا  کہ اے ایف ڈی سے ای میل اور ٹیلی فون کے ذریعے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات