1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلمانوں کی نگرانی بڑھانے کی ضرورت ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ری پبلکن پارٹی کی طرف سے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو دہشت گردی سے لڑنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ملک میں موجود مسلمانوں کی پروفائلنگ یا ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا سلسلہ بڑھانا چاہیے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قبل ازیں امریکا میں مسلمان تارکین وطن کی آمد پر پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اورلانڈو میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے تناظر میں ٹرمپ کی طرف سے یہ بیان اتوار 19 جون کو سامنے آیا جو انہوں نے سی بی ایس ٹیلی وژن کے پروگرام ’فیس دا نیشن‘ میں گفتگو کے دوران دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’آپ اسرائیل کو دیکھیں اور دیگر ممالک کو دیکھیں، وہ یہ کام کر رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ میں پروفائلنگ کے لفظ سے نفرت کرتا ہوں، مگر ہمیں عقل استعمال کرنا شروع کرنا چاہیے۔‘‘

ٹرمپ کے ان الفاظ پر امریکی مسلمانوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ امریکا ہی میں پیدا ہونے والے ایک مسلمان نے اورلانڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کر کے 49 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس مطالبے پر قائم ہیں کہ ایسے ممالک سے تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ روک دیا جانا چاہیے جو ’’دہشت گردی کی ثابت شدہ تاریخ‘‘ رکھتے ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ایک مسلمان جوڑے کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کی امریکا آمد کے سلسلے کو وقتی طور پر روک دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا ہی میں پیدا ہونے والے ایک مسلمان نے اورلانڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کر کے 49 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا

امریکا ہی میں پیدا ہونے والے ایک مسلمان نے اورلانڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کر کے 49 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا

’فیس دا نیشن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ’’قانون کی بالادستی کے لیے تعاون کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ ہیں وہ بُرے ہیں۔‘‘

اورلانڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب پر فائرنگ کرنے والا ایک ایسا امریکی مسلمان نوجوان عمر متین تھا جو افغان تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ ’پَلس‘ نائٹ کلب میں تین گھنٹوں تک لوگوں کو یرغمال رکھنے اور انہیں قتل کرنے کے دوران عمر متین نے مبینہ طور پر داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا تاہم حکام کا ماننا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں شدت پسندی کی طرف مائل تھا۔

اپنے انٹرویوی کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عمر متین کے گرد کئی سوالیہ نشان ہیں جس سے ایف بی آئی نے تفتیش تو کی تھی مگر اسے حراست میں نہیں لیا تھا۔ ٹرمپ نے مسجدوں کی جانچ پڑتال بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا: ’’اگر آپ فرانس میں جائیں تو یہ کام کر رہے ہیں۔ درحقیقت بعض جگہوں پر تو انہوں نے مساجد کو بند بھی کیا ہے۔‘‘