1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسلمانوں کا امیج اور مغربی ذرائع ابلاغ

یورپ میں آباد مسلمانوں کا خیال ہے کہ ذرائع ابلاغ میں ان کے بارے میں جو معلومات دی جاتی ہیں وہ متوازن نہیں ہوتیں۔ یہ نتیجہ ہے اس جائزے کا، جو حال ہی میں یورپ میں کرایا گیا۔

default

جرمنی ، فرانس اور برطانیہ میں مسلمانوں کو ذرائع ابلاغ میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے؟ کیا ان ممالک میں رہنے والے مسلمان میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دی جانے والی معلومات سے مطمئن ہیں؟ اور وہ اپنے آپ کو آگاہ رکھنے کے لئے کونسے ذرائع استعمال کرتے ہیں؟ ان اور اس طرح کے دیگر سوالات پر گزشتہ دنوں ایک جائزہ کرایا گیا۔ مغربی یورپ میں کرائے جانے والے جائزے کے نتائج پر ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بحث ہوئی۔’ مسلمان اور ذرائع ابلاغ ‘ کے نام سے ہونا والا یہ اجلاس جرمن شہر پوٹس ڈام میں منعقد ہوا۔ جائزے کے مطابق يورپ ميں مقيم مسلمان يہ سمجھتے ہيں کہ يورپی ذرائع ابلاغ ميں مسلمانوں کے بارے ميں فراہم کی جانے والی معلومات اور ان کا انداز متوازن اور منصفانہ نہيں ہوتا۔ اس مسئلے کا ايک حل يہ خيال کيا جاتا ہے کہ ميڈيا ميں مسلمان صحافيوں کی تعداد ميں اضافہ کيا جائے۔

Muslimische Mädchen in Tirol, Österreich

یورپ میں مسلمان خواتین دینی تعلیم بھی حاصل کر تی ہیں

کچھ عرصہ پہلے کرائے گئے اس جائزے کا مقصد يہ معلوم کرنا تھا کہ جرمنی،انگلينڈ، فرانس اور دوسرے مغربی يورپی ممالک ميں رہنے والے مسلمان ميڈيا ميں مسلمانوں کے بارے ميں کی جانے والی رپورٹنگ اور پيش کی جانے والی اطلاعات کے بارے ميں کيا سوچتے ہيں۔کيا وہ يہ سمجھتے ہيں کہ ان کے بارے ميں کی جانے والی رپورٹنگ صحيح اور منصفانہ ہے؟ يورپی مسلمان معلومات کے حصول کے لئے کون سے ذرائع ابلاغ استعمال کرتے ہيں؟

ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی غرض سے کئے جانے والے اس جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ جرمنی، انگلينڈ اور فرانس ميں مقيم مسلمانوں کی اکثريت يہ سمجھتی ہے کہ ان ممالک کے ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے بارے ميں متوازن طريقے سے معلومات فراہم نہيں کرتے۔ جائزے کا اہتمام لندن کے انسٹيٹيوٹ فار اسٹريٹيجک ڈايالوگ اور ووڈا فون ٹرسٹ نے کيا تھا۔ جائزہ مرتب کرنے کے دوران محققين نے ميڈيا استعمال کرنے والے اور ميڈيا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تقريباً ايک سو پچاس افراد کی رائے معلوم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں معلومات پیش کرتے وقت دہشت گردی، بنياد پسندی اور مسلم خواتين کے سر ڈھانپنے کے بارے ميں ہونے والی بحث کو ذرائع ابلاغ ميں سب سے زيادہ جگہ دی جاتی ہے۔

جرمنی کے شہر پوٹس ڈم ميں ہونے والی ميڈيا کانفرنس ميں، شام سے تعلق رکھنے والے ڈنمارک کے رکن پارليمان ناصر خدر نے کہا: ’’ايسا اکثر ہوتا ہے کہ صحافيوں پر وقت کا دباؤ ہوتا ہے اور ان کو جلدی ميں کسی کو تلاش کرنا پڑتا ہے، جو معاشرے ميں مسلمانوں کے انضمام يا اسلام کے بارے ميں کوئی بيان دے سکے يا اظہار خيال کر سکے۔ تناؤ کی اِس صورتحال ميں بسا اوقات يہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ايسے شخص کو مدعو کر ليتے ہيں، جو اس سے پہلے بھی ميڈيا ميں آ چکا ہو۔ ڈنمارک ميں صرف مٹھی بھر مسلمانوں ہی نے اسلام کے سلسلے ميں شدت پسندی کا مظاہرہ کيا اور انہی کو ذرائع ابلاغ ميں سب سے زيادہ جگہ دی گئی۔ تاہم وہ ڈنمارک کے مسلمانوں کی اکثريت کے نمائندے نہيں تھے۔‘‘

جائزے کے مطابق مغربی يورپ کے بڑے ميڈيا ميں مسلمانوں کے بارے منں منفی رپورٹنگ کا يہ نتيجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمان ايسے ميڈيا کی جانب متوجہ ہو رہے ہيں، جو يا تو غير ممالک ميں قائم ہيں يا جنہيں مغربی يورپ ميں ان کے ہم وطن چلاتے ہيں۔ اس سلسلے ميں سب سے اہم بات مذہب نہيں بلکہ زبان ہے۔ تاہم صرف چاليس فيصد مسلمان يہ سمجھتے ہيں کہ ان ذرائع ابلاغ ميں مسلمانوں کے امور پر متوازن انداز ميں رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ يعنی يہ کہ نہ تو ان کے آبائی ممالک کا ميڈيا اور نہ ہی مغربی يورپ کے مسلمانوں کے چلائے جانے والے ميڈيا ميں مسلمانوں کے بارے ميں پيش کی جانے والی معلومات ميں توازن پايا جاتا ہے۔

سوئٹزرلينڈ کے،مصر سے تعلق رکھنے والے طارق رمضان آکسفورڈ يونيورسٹی ميں پروفيسر ہيں۔ انہوں نے صحافيوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’جب بھی فرق يا اختلاف کا معاملہ پيش آتا ہے تو يہ ايک پيچيدہ معاملہ ہوتا ہے اور اس سلسلے ميں زيادہ علم اور ايک جامع انداز فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کے بارے ميں صرف ثقافت کے حوالے سے بات نہيں کی جاسکتی کيونکہ يہ مذہب کا معاملہ ہے اور مذہب کوبالکل الگ کر کے نہيں ديکھا جا سکتا کيونکہ اس کا تعلق کلچر سے بھی ہے۔‘‘

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی