1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلمانوں پر قدغنیں نہیں لگائی جائیں گی، جرمن حکومت

برلن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جرمنی ميں مقيم مسلمانوں کی مذہبی سرگرميوں کو محدود کرنے سے متعلق قانون متعارف کروانے کے مطالبات ہرگز پورے نہيں کيے جائيں گے اور یہ کہ مذہبی آزادی جرمن آئين کا ايک اہم جزو ہے۔

مذہبی آزادی جرمن آئين ميں فراہم کردہ بنيادی حقوق ميں سے ايک ہے۔ وفاقی جرمن حکومت کے ترجمان اسٹيفان زائيبرٹ نے يہ بيان کل پير کے روز دارالحکومت برلن ميں ديا۔ ان کے بقول چانسلر انگيلا ميرکل کی سياسی جماعت کرسچن ڈيموکريٹک يونين کے مطالبات کے باوجود اسلام کے حوالے سے کوئی ايسی قانون سازی نہيں ہو گی، جس سے ملک ميں مقيم مسلمانوں کی مذہبی سرگرمياں متاثر يا محدود ہوتی ہوں۔

قبل ازيں سی ڈی يو کی نائب سربراہ يوليا کلوکنر نے ملک ميں ایک ایسے ’اسلامک لاء‘ کے قيام کا مطالبہ کيا تھا، جس کے تحت ملک ميں موجود مساجد کی بيرونی ملکوں سے مالی معاونت پر پابندی، مسلم مبلغین کے ليے سخت تر قواعد و ضوابط اور ہسپتالوں و جيلوں ميں مسلم مشيروں پر پابندی عائد کی جاسکتی ہو۔

جرمنی ميں اس سال ستمبر میں عام  انتخابات ہونے والے ہيں، جن ميں انگیلا ميرکل چانسلرشپ کی چوتھی مدت کے تعاقب  ميں ہيں۔ ان پر يہ تنقيد کی جاتی ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس ايک ملين سے زائد مہاجرين کو، جن کی بڑی اکثریت مسلمانوں کی تھی، جرمنی آنے کی اجازت دی۔ اسی سبب داخلی سطح پر نہ صرف چانسلر ميرکل بلکہ ان کی سياسی جماعت سی ڈی يو کی مقبوليت ميں بھی کمی رونما ہوئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:47

جرمن اسلام کانفرنس، مکالمت کے دس برس

Audios and videos on the topic