1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلسل خونریزی: افغانستان میں مزید تئیس ہزار شہری بے گھر

افغانستان کے مختلف حصوں میں جاری مسلسل خونریزی کی وجہ سے اس سال کے دوران اب تک مزید قریب تئیس ہزار شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی منگل سات مارچ کو جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

Flüchtlinge Afghanistan Heart Kabul (DW/S.Tanha)

’اس سال افغانستان میں اندرون ملک مہاجر بن جانے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے چار لاکھ ہو جائے گی‘

افغان دارالحکومت کابل سے موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ہندو کش کی اس ریاست کو سرکاری دستوں اور طالبان عسکریت پسندوں کے مابین لڑائی یا پھر مزاحمت کاروں کے مسلح حملوں کی صورت میں بہت سے صوبوں میں ابھی تک جس خونریز تنازعے کا سامنا ہے، وہ اس سال یکم جنوری سے لے کر اب تک مزید قریب 23 ہزار افغان باشندوں کو اپنے گھروں سے رخصتی پر مجبور کر چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان 22 ہزار 600 سے زائد افغان شہریوں کو اس لیے مہاجرت کرنا پڑی کہ ان کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں مقیم رہنا تقریباﹰ ناممکن ہو گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نئے سرے سے مہاجرت پر مجبور ان افغان شہریوں کا تعلق ملک کے کل 34 میں سے ان 20 صوبوں سے تھا، جہاں سلامتی کی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے۔

افغانستان: پولیس کمانڈر سمیت 13 ہلاک

افغان فوج نے القاعدہ کے اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا

ان میں سے بھی 36 فیصد یا قریب ہر تیسرے بے گھر افغان باشندے کا تعلق ایسے علاقوں سے تھا، جہاں ملکی یا غیر ملکی امدادی کارکنوں کو آسانی سے رسائی حاصل نہیں ہوتی اور ایسے علاقے انتہائی دشوار گزار ہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس جو افغان شہری بدامنی کے باعث اپنے گھروں یا آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے، ان کی تعداد بھی 65 ہزار سے زائد رہی تھی۔ یہ تعداد 2016ء کے لیے گزشتہ اعداد و شمار کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

Flüchtlinge Afghanistan Heart Kabul (DW/S.Tanha)

ان قریب تئیس ہزار بے گھر افغان باشندوں کا تعلق ملک کے بیس مختلف صوبوں سے ہے

پاکستان: افغانستان سے 76 مطلوب دہشتگردوں کی حوالگی کا مطالبہ

ننگرہار میں افغان فوجی چوکیوں پر داعش کے حملے، اڑتیس ہلاکتیں

اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ اس سال کے دوران افغانستان میں اندرون ملک مہاجر بن جانے والے شہریوں کی مجموعی تعداد مزید اضافے کے ساتھ ساڑھے چار لاکھ ہو جائے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق ان  ہزارہا شہریوں کے اندرون ملک بے گھر ہو جانے کی وجوہات کو اس پس منظر میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ہفتے تک افغانستان کے 12 یا ایک تہائی سے زیادہ صوبے ایسے تھے، جہاں خونریز لڑائی جاری تھی۔

اس کے بعد رواں ہفتہ بھی جنوبی صوبے قندھار میں لڑائی کے ساتھ شروع ہوا جب طالبان عسکریت پسندوں نے ضلع نیش میں پیر چھ مارچ کی صبح بیک وقت بہت سی سکیورٹی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے۔ قندھار کی صوبائی پولیس کے ترجمان احمد ضیاء  درانی کے بقول قندھار میں ان حملوں میں افغان سکیورٹی فورسوز کے کم از کم چھ ارکان ہلاک اور 13 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔

DW.COM