1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مسلح گروہ ’بریگیڈ 48‘ مہاجرین کو یورپ جانے سے روک رہا ہے

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لیبیا میں مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ لیبیا کے ساحلوں سے اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اچانک کمی کی وجہ وہ مسلح گروہ ہیں جو ان ساحلوں پر مہاجرین کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔

عام طور پر موسم گرما کے دوران سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران شمالی افریقی ممالک، خاص طور پر لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے سمندری راستے اختیار کرتے ہوئے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اچانک کمی دیکھی گئی تھی۔ مہاجرت سے متعلقہ امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اس اچانک کمی کی وجوہات جاننے سے قاصر رہے تھے۔

اٹلی میں مہاجرین کی آمد کم کیسے ہوئی؟ ماہرین پریشان

بحیرہ روم کے ذریعے اسپین پہنچنے کا انتہائی خطرناک راستہ

تاہم روئٹرز نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لیبیا میں موجود مختلف ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سمندری راستے اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اچانک کمی کی سب سے بڑی وجہ لیبیا کے ساحلوں پر سرگرم وہ مسلح گروہ ہیں، جو ایسے تارکین وطن کو یورپ کی طرف سفر پر روانہ ہونے سے روک رہے ہیں۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ساحلی شہر صبراتہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ مسلح گروہ ساحلوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور کشتیوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کو روکنے کے علاوہ انہیں اپنی تحویل میں بھی لے لیتے ہیں۔

اسی شہر سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن نے اپنی شناخت چھپائے رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’’صبراتہ میں یہ گروہ ساحلوں پر سرگرم ہیں اور اٹلی جانے کی کوششیں کرنے والے تارکین وطن کو روک رہے ہیں۔‘‘ مہاجرین اور مہاجرت کے امور پر کام کرنے والے اس سماجی کارکن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تارکین وطن کو روکنے کی یہ زبردست مہم ’’ایک مافیا کے سابق سربراہ نے شروع کر رکھی ہے اور اس مسلح گروہ کے سینکڑوں کارکنوں میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔‘‘

ایک تیسرے ذریعے نے بھی اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس مسلح گروہ کا نام ’بریگیڈ 48‘ ہے جو لیبیا کے ساحلوں کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ صبراتہ میں موجود ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلح گروہ نے اپنے حراستی مراکز بھی بنا رکھے ہیں جہاں یورپ کے غیر قانونی سفر پر روانہ ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کو رکھا جا رہا ہے۔ ایک اور شخص نے روئٹرز کو ایک تصویر بھی بھیجی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حراست میں لیے گئے ایسے سینکڑوں تارکین وطن ایک اونچی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

یورپی یونین اور اٹلی لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یونٹی گورنمنٹ پر مہاجرین کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یونین نے کئی ایسے منصوبے بھی شروع کر رکھے ہیں جن کے تحت لیبیا کے کوسٹ گارڈز اور سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم لیبیا میں کسی مضبوط اور متفقہ قومی حکومت کے نہ ہونے کے باعث یونٹی گورنمنٹ کے اقدامات کافی ثابت نہیں ہو رہے تھے۔

روئٹرز نے لیبیا کی وزارت داخلہ سے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے رابطہ بھی کیا، تاہم اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سن 2014 سے لے کر اب تک لیبیا کے ساحلوں سے چھ لاکھ سے زائد تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں جب کہ اس دوران لیبیا کی حکومت نے ایسی کوششیں کرنے والے محض قریب بارہ ہزار تارکین وطن کو گرفتار کیا۔

ترکی سے اٹلی: انسانوں کے اسمگلروں کا نیا اور خطرناک راستہ

لاکھوں تارکین وطن کن کن راستوں سے کیسے یورپ پہنچے

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic