1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسلح افراد زیرحراست مبینہ دہشت گرد چھڑا کر فرار، پشاور پولیس

پشاور پولیس کے مطابق ایک پولیس موبائل پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے میں حملہ آور پولیس کی گاڑی میں موجود ایک مبینہ دہشت گرد کو چھڑا کر لے گئے۔

default

پولیس کے مطابق اس مبینہ دہشت گرد کو دانتوں کے علاج کے لیے یونیورسٹی ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ یونیورسٹی کیمپس کے باہر مسلح افراد نے پولیس موبائل کو خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

Pakistan US Bürger verurteilt

پولیس پر حملے کا ایک پہلا واقعہ نہیں

پولیس کے مطابق پشاور کی مرکزی جیل میں قید اس اہم قیدی کو دانتوں کے چیک اپ کے لیے یونیورسٹی ہسپتال پہنچایا گیا تھا اور مسلح افراد نے اس پولیس موبائل پر فائرنگ اس وقت کی، جب یہ گاڑی قیدی کو لے کر جیل کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

پشاور پولیس کے سربراہ امتیاز الطاف کے مطابق حملہ آوروں نے اس کارروئی کے لیے ایک کار اور دو موٹرسائیکل استعمال کیے اور انہوں نے پولیس کی گاڑی کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا۔

’’اس واقعے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ مسلح افراد اپنے ہمراہ قیدی کو بھی لے گئے ہیں۔ یہ قیدی دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت زیرحراست تھا۔‘‘

ایک پاکستانی خفیہ اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ پولیس موبائل پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد آٹھ تا دس تھی، جبکہ یہ مسلح افراد ڈینٹل کالج سے اس گاڑی کے باہر نکلنے کے منتظر تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM