1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسخرا، خوف کی علامت بن گیا

جرمنی میں حالیہ ہفتوں کے دوران سینکڑوں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مسخروں کے حلیے میں موجود افراد نے عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا یا انہیں زخمی کر دیا۔

اسی خوف کے باعث کئی پرتشدد واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک اِس طرح کے 370 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے خوف پھیلانے والے کلاؤنز یا ’مسخروں‘ کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ میزیئر کے مطابق بہتر ہے کہ اس طرح کے واقعات پر جتنی جلدی ممکن ہو قابو پا لیا جائے۔  ان کے بقول اس سلسلے میں کسی سے کسی طرح کی رعایت نہ برتی جائے۔ 

جرمن حکام کے مطابق ان میں مسخروں کے لباس میں ملبوس افراد کی طرف سے قریب سے گزرتے لوگوں کو بطور مذاق دھمکا کر خوفزدہ کرنے سے لے کر ان پر اصل میں حملے کرنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ پولیس اور عدالتی حکام کے مطابق مسخروں کے حلیے میں موجود افراد کی طرف سے لوگوں پر چاقو، بیس بال بیٹ یا مشینی آری  سے وار کرنے جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک واقعے میں ایک شخص نے جو خوفناک مسخرے کا حلیہ دھارے ہوئے تھا، ایک ٹرین میں موجود مسافروں کو چاقو سے دھمکایا جس سے ان مسافروں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ جرمن کی ایک مغربی ریاست زار لینڈ میں پیش آنے والے اس واقعے میں بعد ازاں پولیس نے اس شخص کو حراست میں لے لیا۔

ڈراؤنے مسخروں کے حلیے میں موجود افراد کی طرف سے لوگوں پر حملوں کے زیادہ تر واقعات جرمنی کے مغربی حصے کے شہروں میں پیش آئے ہیں جن میں ڈوئِس برگ، کولون اور آخن وغیرہ شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابتداء میں امریکا سے شروع ہونے والے اس جنون کے اثرات جرمنی کے انہی علاقوں میں زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔

Horrorclown (Imago/Agencia EFE)

مسخروں کے حلیے میں موجود افراد کی طرف سے لوگوں پر چاقو، بیس بال بیٹ یا مشینی آری  سے وار کرنے جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں

پیر 24 اکتوبر کو برلن میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ایسے ہی حلیے میں موجود ایک 16 سالہ نوجوان چاقو کے وار سے اُس وقت زخمی ہو گیا جب اس نے ایک 14 سالہ نوجوان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ اس 14 سالہ نوجوان نے جوابی طور پر مسخرے پر چاقو سے وار کر دیا۔

جرمن پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ہیلووین کا وقت قریب ہونے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ تہوار دنیا بھر میں 31 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اور اس میں لوگ مختلف خوفزدہ کر دینے والے روپ دھارتے ہیں۔ بعض شہروں میں مسخروں کا روپ دھارنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے کسی شخص کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔

مختلف جرمن سرکس اور مسخروں کا روپ دھارنے والے افراد کی طرف سے ایسے نقصان دہ حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات سے مزاح اور مستی کی علامت مسخرے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔