1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مسجد نبوی کے قریب دھماکے پر شدید رد عمل

گزشتہ شب سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ایک خود کش حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے رمضان کے اختتام پر اس مقدس مقام پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو مسجد نبوی کی طرف جاتے ہوئے دیکھا اور جیسے ہی اسے روکنے کی کوشش کی گئی، تو اس خود کش بمبار نے خود کو اڑا لیا۔

مسجد نبوی میں پیغمبرِ اسلام کا روزہ اور اسے مسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس مقام کے قریب ہونے والے خود کش حملے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹوئٹر کے ایک صارف سحر اشفاق نے لکھا،’’ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں انتہائی مایوس ہوں کہ مسلمان ہی ہماری جنت کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘

صحافی طلعت حسین نے متعدد ٹوئيٹس میں اس حملے کے ممکنہ اثرات بیان کیے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا،’’سعودی عرب کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ حملے سکیورٹی کی ناکامی کا نتيجہ ہيں۔ اس حملے کے بعد مغرب کی ہمدردیوں کے بجائے سعودی عرب کو کہا جائے گا کہ وہ اپنے سکیورٹی اقدامات اور پالیسیوں میں اصلاح کرے۔‘‘

صحافی نسیم ذہرہ نے ٹوئيٹ کی،’’جب تک مسلم دنیا میں زہریلے تنازعات ختم نہیں ہوں گے تب تک اسلام کی روح اور جذبے پر حملے بند نہیں ہوں گے۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ہیش ٹیگ مدینہ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے تب تک سنی اور شعیہ دونوں دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے۔‘‘

کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اس حملے کے بعد کی صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں۔

واضح رہے کہ مدینہ میں دھماکے سے قبل سعودی عرب کے شہر قطیف میں بھی ایک دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان دھماکوں سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب جدہ میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جہاں خودکش حملہ آور نے امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا ليا تھا۔

DW.COM