1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مسجد نبوی پر حملے‘ کی ناکام منصوبہ بندی کرنے والا ہلاک

اسلام کے دو مقدس ترین مقامات میں سے ایک ’مسجد نبوی پر حملے‘ کی منصوبہ بندی کرنے والا ایک انتہا پسند پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ گزشتہ برس چار جولائی کو سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے اتوار آٹھ جنوری کے روز سعودی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس شہر مدینہ میں اس ناکام حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا انتہا پسند ایک اسکالرشپ اسٹوڈنٹ تھا، جس نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے انتہا پسند گروہ داعش کی رکنیت اختیار کر لی تھی۔

سعودی عرب میں خود کش حملے، بارہ پاکستانیوں سمیت انیس گرفتار

ایران اور حزب اللہ کی جانب سے مدینے میں حملے کی مذمت

مسجد نبوی کے قریب دھماکے پر شدید رد عمل

ریاض میں وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق سات جنوری بروز ہفتہ ریاض ہی میں میں فائرنگ کے ایک تبادلے کے دوران طائع الصیعری اپنے ایک اور انتہا پسند ساتھی طلال الصاعدی کے ہمراہ مارا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ جب پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کی تو طائع نے ایک خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی جبکہ اس کے پاس ایک مشین گن بھی تھی۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ طائع نے گزشتہ برس چار جولائی کے روز مدینہ میں مسجد نبوی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تاہم سکیورٹی کے باعث حملہ آور مسجد نبوی کے قریب جانے میں ناکام رہا تھا لیکن اس نے ایک خود کش حملہ پھر بھی کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق الصیعری نیوزی لینڈ میں ایک اسکالرشپ اسٹودنٹ تھا لیکن اس نے تعلیم چھوڑ کر شام کا رخ کیا، جہاں اس نے خانہ جنگی میں داعش کے ساتھ مل کر حصہ لیا۔ بعد ازاں وہ ترکی، مصر اور یمن بھی گیا، جہاں سے وہ واپس سعودی عرب لوٹا تھا۔

ہفتے کے دن ہلاک ہونے والا الصیعری کا ساتھی طلال بھی مبینہ طور پر داعش کا ہمدرد تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق بیرونی ممالک میں لڑنے کے الزام میں طلال کو ماضی میں گرفتار بھی کیا گیا تھا تاہم جب وہ واپس وطن لوٹا تھا تو اسے نفسیاتی مدد فراہم کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

DW.COM