1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسجدالحرام میں کرین گرنے سے سو سے زائد افراد ہلاک

سعودی عرب کے شہر مکہ میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کعبہ کے ارد گرد قائم مسجد الحرام میں ایک بہت بڑی کرین گرنے سے کم از کم 107 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے تحقیقاتی عمل شروع کر دیا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے ہفتہ بارہ ستمبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں میں شہری دفاع کے سعودی محکمے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جمعہ گیارہ ستمبر کی شام مغرب کی نماز کے وقت پیش آنے والے اس سانحے میں اب تک 107 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

سعودی سول ڈیفنس کی طرف سے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا کہ یہ حادثہ مکہ شہر میں چلنے والی تیز رفتار ہواؤں اور ریت کے ایک بڑے طوفان کے دوران پیش آیا، جب مسجدالحرام میں نصب کردہ ایک بہت بڑی کرین اچانک گر پڑی اور مسجد کے احاطے میں موجود ہزاروں افراد میں سے بہت سے اس عظیم الجثہ فولادی ڈھانچے کی زد میں آ گئے۔

اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر تیز رفتاری سے گردش کرنے والی تصویروں میں حادثے کی جگہ کے علاوہ وہاں جگہ جگہ پھیلا ہوا عبادت گزاروں کا خون بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ دیگر رپورٹوں کے مطابق طوفان کے نتیجے میں گرنے والی کرین ایک چھت پر گری، جس کے گر جانے کی وجہ سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔

مکہ اور اس کے بعد مدینہ دونوں ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کے دو سب سے زیادہ مقدس مقامات ہیں، جہاں مختلف ملکوں سے مسلمان ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جاتے ہیں۔ اس سال بھی حج کی ادائیگی کے لیے مجموعی طور پر قریب تین ملین مسلمان مکہ کا رخ کریں گے اور ان کی اکثریت آئندہ چند دنوں میں مکہ پہنچنا شروع ہو جائے گی۔