1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مست میلہ ’اکتوبر فَیسٹ‘ شروع ہو گیا

وفاقی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ میں اکتوبر فیسٹیول کا آغاز ہو گیا ہے۔ رواں برس اس میلے کے دوران انتہائی زیادہ سکیورٹی رکھی گئی ہے۔ اس سالانہ میلے میں بیئر کے شوقین خاص طور پر جوق در جوق شریک ہوتے ہیں۔

روایتی انداز میں اس فیسٹیول کا افتتاح میونخ کے میئر ڈیٹر رائٹر نے کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا 184 واں سالانہ میلہ ہے۔  ہفتہ سولہ ستمبر کی صبح نو بجے سے پہلے ہی بیئر گارڈنز اور بہت بڑے بڑے خیموں کے باہر قطاریں لگ چکی تھیں اور افتتاح دوپہر بارہ بجے ہوا۔ بارش کے باوجود امسالہ میلے کی افتتاحی تقریب میں ہزارہا لوگوں نے شرکت کی۔

بیئر کے سب سے زیادہ گلاس اٹھانے کا ریکارڈ ایک جرمن کے پاس
اکتوبر فیسٹیول کا جشن بھی اور مہاجرین کا بحران بھی
میونخ: دنیا کا سب سے بڑا بیئر میلہ، حفاظتی انتظامات مزید سخت

ویڈیو دیکھیے 01:22

چابی کے بغیر بوتل کیسے کھولی جائے؟

حکام نے ساڑھے چار سو سے زائد سکیورٹی اہلکار میلے کے مختلف مقامات پر تعینات کر رکھے ہیں۔

اس میلے میں شرکاء باویریا کے روایتی ملبوسات پہن کر شریک ہوتے ہیں۔

اسی طرح بیئر فروخت کرنے والے مخصوص خیموں میں مہمانوں کے لیے بیئر کے گلاس لانے والی خواتین بھی روایتی پہناووں میں ہوتی ہیں۔

شرکاء کو فیسٹیول کے علاقے میں داخل ہونے سے قبل اپنے بیک پیک گھروں یا ہوٹلوں میں چھوڑ کر آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تمام افراد کی خاص طور پر اسکریننگ کی جا رہی ہے تا کہ کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے شرکاء کے لیے چند خصوصی محفوظ علاقے بھی مختص کیے گئے ہیں۔

میونخ کا اکتوبر فیسٹیول پہلی مرتبہ سن 1810 میں منعقد ہوا تھا۔ اس سترہ روزہ میلے میں اس سال کم از کم بھی چھ لاکھ افراد کی شرکت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

تاریخی حوالے سے اس میلے کے دوران آج تک دو صدیوں سے زائد عرصے میں محض چند ایک ہی ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ میلہ تقریباﹰ ہمیشہ ہی پرامن طور پر اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ سن 1980 میں ایک انتہا پسند کے نصب کردہ بم کے پھٹنے سے ایک درجن افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ برس دو ہزار سے زائد شکایتیں موصول ہوئی تھیں اور اور اُن پر کارروائی بھی کی گئی تھی۔ ان میں دست بدست لڑائی کے علاوہ جیب کتروں کی کارروائیاں اور خواتین سے پرس چھیننے کے واقعات بھی شامل تھے۔

گزشتہ برس ان جرائم کی وارداتوں پر کئی مہمان انتہائی برہم بھی رہے تھے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic