1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مستقبل میں گوشت کی جگہ حشرات

ہالینڈ کے سائنسدان حشرات الارض کو جانوروں کے گوشت کی جگہ استعمال کرنے کے لیے ایک تحقیق میں مصروف ہیں۔ ان سائنسدانوں کے بقول حشرات کھانے میں زیادہ صحت افزا اور پروٹین کا زیادہ ماحول دوست ذریعہ ہیں۔

default

اس تحقیقی منصوبے کے سربراہ آرنلڈ فان ہوئس کے بقول، ’ایک دن آئے گا جب بِگ میک 120 یورو میں ملے گا جبکہ حشرات سے بنا برگر یا بگ میک صرف 12 یورو میں۔‘

ہوئس کے مطابق حشرات کھانے کے حوالے سے بہترین عمل یہ ہے کہ آپ محض ایک مرتبہ انہیں کھا کر دیکھیں۔

اس مقصد کے لیے وسطی ہالینڈ کی واگننگن یونیورسٹی میں مختلف حشرات سے تیار کی گئی ڈشز سے لوگوں کی تواضع بھی کی گئی۔ ان میں تھائی مصالحوں میں بنے سبز مکڑے، اور بھنوروں سے بنی سویٹ ڈش بھی شامل تھی۔ یہ ڈشز حاضرین کو اتنی پسند آئیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوگئیں۔

یونیورسٹی کے شعبہ حشرات الارض کے سربراہ مارسل ڈِکی کے بقول حشرات نہ کھانے کی تمام تر وجہ محض ذہنی ہے،کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ گندے ہیں۔ ڈکی کے مطابق دوسرا مسئلہ ان حشرات سے جُڑا خوف بھی ہے۔

Insekt zum Frühstück

"لوگوں کے پاس اب اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ وہ حشرات کھانے کے حوالے سے اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں"

ہالینڈ میں اس وقت تین مختلف فارمرز ملک میں حشرات کھانے کے شوقین افراد کے لیے مختلف حشرات پیدا کررہے ہیں۔ ایسے شوقین افراد کی تعداد گوکہ فی الحال کم ہے مگر اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

مارسل ڈِکی کے مطابق مغربی لوگوں کے پاس اب اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ وہ حشرات کھانے کے حوالے سے اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک وزراعت کی پیش گوئی کے مطابق زمین پر سال 2050ء تک انسانی آبادی نو ارب تک پہنچ جائے گی، جبکہ زرعی زمین پہلے ہی کم پڑتی جارہی ہے۔

ڈکی کے مطابق، ’یا تو ہمیں گوشت کم کھانے کی عادت ڈالنا ہوگی یا پھر اس کے متبادل تلاش کرنا ہوں گے۔‘

واگننگن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق حشرات میں عام گوشت کی نسبت پروٹین زیادہ جبکہ چکنائی کم ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق 10 کلوگرام خوراک کے استعمال سے حشرات کا چھ سے آٹھ کلوگرام گوشت حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ خوراک کی اتنی مقدار سے جانوروں کا محض ایک کلوگرام گوشت ہی حاصل ہوتا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس