1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مستقبل شمسی توانائی کا، پروفیسر ویبر کا انٹرویو

پروفیسر آئیکے ویبر شمسی توانائی کے نظاموں کے فراؤن ہوفر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ جرمن ادارہ دُنیا بھر میں شمسی توانائی پر تحقیق کے شعبے میں قائدانہ اہمیت کا حامل ہے اور اِس میں 800 سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔

مستقبل شمسی تواناسی کا ہے

مستقبل شمسی تواناسی کا ہے

جرمن شہر فرائی برگ میں واقع اِس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر ویبر نے ڈوئچے ویلے کے گیرو ریوٹر کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں شمسی توانائی کی اہمیت اور موجودہ دور میں اِس پر جاری تحقیق کے حوالے سے بات کی ہے۔

سوال: پروفیسر ویبر یہ بتائیں کہ اِس وقت شمسی توانائی کے شعبے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟


جواب: انتہائی زیادہ استعداد اور کم لاگت فوٹو وولٹک کی کلیدی خصوصیات ہیں۔ ان دونوں شعبوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران متاثر کن پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ سلیسیم کے حامل شمسی سیلوں کی کارکردگی سولہ اور بیس فیصد کے درمیان اور جزوی طور پر اِس سے بھی زیادہ ہے۔ جرمنی میں نصب کردہ فوٹو وولٹک نظاموں کی لاگت ڈہائی یورو فی واٹ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کلو واٹ گھنٹہ بجلی کی قیمت تقریباً بیس سینٹ ہو گی۔ شمالی افریقہ اور جنوبی کیلیفورنیا کے زیادہ دھوپ والے علاقوں میں یہ لاگت دَس سینٹ ہے۔ اقتصادی اعتبار سے اب شمسی توانائی خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔

سوال: سن 2020ء کے لیے امکانات کیا ہیں؟

جواب: فوٹو وولٹک میں سن 1980ء سے ایک خاص رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رجحان یہ ہے کہ ہر بار دُنیا بھر میں نصب کردہ نظاموں کی تعداد دگنی ہونے پر لاگت اور قیمت میں بیس فیصد تک کی کمی ہو جاتی ہے۔ سن 2020ء تک ہمیں توقع ہے کہ نصب کردہ نظاموں کی تعداد دگنی ہی نہیں بلکہ یقینی طور پر چار گنا یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔

ہمارے خیال میں 2020ء میں جرمنی میں شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت بارہ تا پندرہ سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ ہو گی جبکہ زیادہ دھوپ والے خطّوں میں پانچ یا چھ سینٹ ہو گی۔ اِس طرح یہ قیمتیں معدنی یا ایٹمی ذرائع سے پیدا شُدہ بجلی کی قیمتوں کے برابر آ جائیں گی۔ تب شمسی توانائی اُن توانائیوں کی مَد سے باہر نکل آئے گی، جنہیں بڑے پیمانے پر سرکاری امدادی رقوم ملتی ہیں۔ تب توانائی کا یہ ذریعہ پوری دُنیا میں ایک وسیع تر منڈی کے لیے دلچسپ ہوتا چلا جائے گا۔

ایک مکان کی چھت پر نصب شمسی پینل گھر بھر کے لیے بجلی فراہم کرتے ہیں

ایک مکان کی چھت پر نصب شمسی پینل گھر بھر کے لیے بجلی فراہم کرتے ہیں

سوال: کیا اس پیشرفت کے نتیجے میں توانائی کا پورا شعبہ اتھل پتھل ہو کر رہ جائے گا؟

جواب: اِس سلسلے میں میرے پاس ایک اچھی مثال ہے۔ 1850ء میں امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار کا ایک تہائی حصہ وہیل مچھلی کے تیل سے حاصل ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں یہ مائع ایندھن کی واحد شکل تھی، جسے مثلاً روشنی وغیرہ  کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ دَس سال بعد ہی یہ صنعتی شعبہ مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا کیونکہ تب تک معدنی تیل دریافت ہو چکا تھا۔ یہی صورتحال اب توانائی کے شعبے کی ہے۔ اب سے تیس چالیس برسوں بعد ہمارے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہم سے پوچھیں گے کہ خدا کے بندو! تم تب کتنے احمق تھے اور معدنی تیل جلایا کرتے تھے!


سوال: توانائی کی منڈی میں یہ ایک انقلاب ہے۔ اس پیشرفت پر معدنی اور ایٹمی ذرائع سے توانائی کے حصول کے شعبے کا ردعمل کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ ابھی توانائی کی منڈی کو اِس پیشرفت کا پوری طرح سے ادراک نہیں ہوا ہے۔ ظاہر ہے، کہنے کو تو سارے ادارے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کے حق میں ہیں اور انہیں فروغ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم اُن کے ٹھوس اقدامات کو دیکھا جائے تو اُن کی خواہش یہ ہو گی کہ وہ ایٹمی توانائی یا کوئلے اور گیس سے چلنے والے مزید بجلی گھر تعمیر کریں۔ ہوا سے توانائی کے حصول کی بات ہو تو وہ پون چکیاں بھی سمندر میں بڑے بڑے فارموں کی شکل میں لگانا چاہتے ہیں کیونکہ بڑے اداروں کا اسی میں فائدہ ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے نے سورج یا ہوا سے توانائی کے حصول کا کوئی باقاعدہ کاروباری خاکہ وضع نہیں کیا ہے۔ اُن میں یہ محسوس کرنے کی دور اندیشی نہیں دکھائی دیتی کہ وہ ابھی بھی وہیل مچھلی کا تیل فروخت کر رہے ہیں۔

’’بھارت میں حکومت سن 2020ء تک بیس گیگا واٹ صلاحیت کے فوٹو وولٹک نظام نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘‘

’’بھارت میں حکومت سن 2020ء تک بیس گیگا واٹ صلاحیت کے فوٹو وولٹک نظام نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘‘

سوال: فوٹو وولٹک کو بے پناہ ترقی یورپ کے ساتھ ساتھ اب ایشیا میں بھی مل رہی ہے۔ آپ کو اِس وقت دُنیا بھر میں ہونے والی پیشرفت میں کون سا فرق نظر آتا ہے؟

جواب: اِس سلسلے میں اہم ملک چین ہے، جس نے برسوں پہلے جان لیا تھا کہ فوٹو وولٹک مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی ہے۔ وہاں حکومت نے شمسی پینل بنانے کے کارخانوں کی تعمیر کی باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت معاونت کی ہے۔ ایسے زیادہ تر پینل خود چین میں نصب کرنے کی بجائے جرمنی اور یورپ کو برآمد کیے گئے۔ لیکن اب خود چین میں بھی ان پینلز کی تنصیب تیزی سے جاری ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔

بھارت میں بھی اس حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے اور وہاں حکومت سن 2020ء تک بیس گیگا واٹ صلاحیت کے فوٹو وولٹک نظام نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ باقی دُنیا میں اس شعبے میں کم ہی کام ہو رہا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM