1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مستقبل‘ بے گھر ہو رہا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال نے آج بدھ کو بے گھر ہونے بچوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ اس کے مطابق آج کل دنیا بھر میں جنگ اور مختلف تنازعات کی وجہ سے پچاس ملین بچوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال یونیسیف کے ڈائریکٹر انتھونی لیک کے مطابق تقریباً ایک سال قبل ساحل سمندر پر ایلان کردی کی لاش اور خون میں لت پت چہرے کے ساتھ ایک ایمبولینس میں بیٹھے عمران دقنیش کی تصاویر وہ ناقابل فراموش عکس ہیں، جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ پریشان حال کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی ہر تصویر دنیا میں خطرات میں گھرے لاکھوں بچوں کی نمائندگی کرتی ہے، ’’یہ تصاویر ہم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انفرادی سطح پر نہیں بلکہ ہمیں تمام بچوں کے لیے عملی اقدامات کریں۔‘‘

یونیسیف کی جانب سے آج جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں 28 ملین بچے تشدد اور تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہوئے اور ان میں نقل مکانی کرنے والے دس ملین بچے بھی شامل ہیں۔ ا سے بچوں کی تعداد تقریباً ایک ملین ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں تعطل کا شکار ہیں جب کہ سترہ ملین بچے اپنے ہی ملک میں مہاجر بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے بنیادی سہولیات اور ہنگامی امداد تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً بیس ملین بچے ایسے ہیں، جنہوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا گھر بار چھوڑا ان میں انتہائی غربت اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کی کارروائیاں سر فہرست ہیں۔

یونیسیف کے مطابق بے گھر ہونے والے زیادہ تر بچوں کے پاس شناختی دستاویز نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے ان کی قانونی نگرانی اور ان کی بہبود کے لیے کام کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں کی سیاسی پناہ کے معاملات بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔’’یہ صورت حال انتہائی حد تک پیچیدہ ہے اور ایسے میں بچوں کے ساتھ بد سلوکی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ بچے دنیا کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہیں لیکن ان میں نصف بے گھر ہیں۔