1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مستعفی ہو جاؤں گا، نیپالی وزیر اعظم کا مشروط اعلان

نیپال کے وزیر اعظم جلاناتھ کھنال نے مستعفی ہونے کا مشروط اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیرہ اگست تک امن عمل میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو وہ استعفی دے دیں گے۔

default

نیپال کے وزیر اعظم جلاناتھ کھنال

نیپال کے نائب وزیر اعظم بھارت موہن ادھیکاری نے بدھ کو جلاناتھ کھنال کے اس ارادے سے متعلق خط پارلیمنٹ میں پڑھا۔ کھنال گزشتہ کچھ دِنوں سے بیمار ہیں۔

بڑی اپوزیشن پارٹی نیپالی کانگریس گزشتہ دو ہفتے سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی تھی۔ تاہم پارلیمنٹ میں اس دوسری بڑی پارٹی نے کھنال کے پیغام کے بعد سیشن شروع ہونے دیا۔

کھنال نے اپنے خط میں کہا: ’’سابق ماؤ نواز جنگجوؤں کی بحالی، درجہ بندی اور تعداد کے عمل کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہوسکا تو میں تیرہ اگست کو مستعفی ہونے کا یقینی ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘

نیپال کے پارلیمنٹ میں تین بڑی جماعتوں میں ماؤ نواز، نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال یونیفائیڈ مارکسسٹ لیننسٹس (یو ایم ایل) شامل ہیں۔ ان تینوں جماعتوں نے مئی میں پانچ نکاتی معاہدہ کیا تھا، جس کے ذریعے امن عمل کی تکمیل اور آئین کی تشکیل کے لیے حتمی تاریخ بڑھائی گئی تھی۔

Nepal Parlament in Katmandu

نیپال کے پارلیمنٹ میں تین بڑی جماعتوں میں ماؤ نواز، نیپالی کانگریس اور یو ایم ایل شامل ہیں

اس معاہدے کے نکات میں سے ایک یہ تھا کہ متفقہ حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں گے۔ نیپال میں چارٹر کی تشکیل کے لیے مئی کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی، تاہم اس مدت تک ہدف حاصل نہ ہونے پر اس کے لیے اگست کے آخر کا وقت مقرر کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق گزشتہ تین برسوں سے آئین کی تشکیل کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم سیاسی تنازعات کے باعث یہ کام پورا نہیں ہو پا رہا۔ نیا آئین 2006ء کے امن معاہدے کی شرط تھا۔ اس معاہدے سے ماؤ نواز باغیوں اور حکومت کے درمیان ایک دہائی پر مشتمل تنازعے کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔

ابھی تک حل طلب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان سابق گوریلوں کا کیا کیا جائے، جو خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے کیمپوں تک محدود ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس