1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مسترد شدہ پناہ کے متلاشی افراد کی ملک بدری، مسئلہ کیا ہے؟

گزشتہ ہفتے ہیمبرگ میں پناہ کے متلاشی ایک فلسطینی حملہ آور کی کارروائی کے نتیجے میں میرکل کی مہاجر پالیسی ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گئی ہے۔ کیا یہ نئی بحث ستمبر کے وفاقی پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ جرمن الیکشن سے دو ماہ قبل رونما ہونے والے ہیمبرگ حملے کے باعث مہاجرین کی حکومتی پالیسی پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے فلسطینی نے سر انجام دیا تھا، جس کی جرمنی میں پناہ کی دراخواست مسترد ہو چکی تھی۔ اب یہ مطالبہ شدید ہوتا جا رہا ہے کہ ملک بدری کے قوانین میں زیادہ سختی کر دی جائے۔

جرمن شہر میں ایک مہاجر کا حملہ، ایک ہلاک چھ زخمی

شدت پسندوں کا ڈیٹا تیار کیا جانا چاہیے، جرمن سیاستدان

یورپ آنے والے سبھی مہاجرین کی دوبارہ جانچ پڑتال کا مطالبہ

جرمنی کے وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق مشتبہ فلسطینی حملہ آور کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ میڈیا میں اس شخص کی شناخت احمد اے کے نام سے کی گئی ہے اور اس کی عمر چھبیس برس بتائی گئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:51

جب راہ گیر نے شدت پسند حملہ آور کو روکا

یہ فلسطینی مارچ سن دو ہزار پندرہ میں ناروے سے جرمنی آیا تھا۔ ابھی تک اس حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے ہیں تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے زور دیا ہے کہ حملے کی وجوہات عام کی جانا چاہییں۔

متعلقہ حکام کو شک تھا کہ وہ شدت پسندی کی طرف مائل ہو چکا ہے تاہم ضروری شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث اسے ملک بدر نہیں کیا جا سکا تھا۔

اس تناظر میں جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے کہ مسترد شدہ پناہ کے متلاشی افراد کی ملک بدری کے قوانین بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

 

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین ( سی ڈی یو) کی مرکزی حریف سوشل ڈیموکریٹ پارٹی (ایس پی ڈی) کے سینیئر سیاستدان Burkhard Lischka  کے مطابق، ’’اگر صورتحال واضح نہیں بھی تھی، تو بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ اسے تحویل میں کیوں نہیں لیا گیا تھا۔‘‘

میرکل کی سیاسی پارٹی کی باویریا میں ہم خیال سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) سے وابستہ  Andreas Scheuer نے ہیمبرگ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ایسے مہاجرین اور تارکین وطن افراد کی ملک بدری میں حائل ’افسر شاہی کے نہ سمجھ آنے والے مظاہر‘ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ سی ایس یو کے جنرل سیکرٹری کا مزید کہنا ہے کہ اگر معلوم ہو جائے کہ کوئی انتہاپسند ہو چکا ہے، تو ایسے افراد کے جرم سرزد کرنے سے پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کر لینی چاہیے۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمن حکومت کو مسترد شدہ پناہ کے متلاشی افراد کو ملک بدر کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ برلن حکومت اس قانون میں بہتری کی کوشش کر چکی ہے لیکن اب بھی انتظامی مسائل کے باعث متعلقہ حکام اس تناظر میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق جرمنی کے آئندہ وفاقی پارلیمانی انتخابات میں مہاجرین اور سلامتی کا معاملہ انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم میرکل پرعزم ہیں کہ وہ جرمنی میں مہاجرین کی آمد کے حوالے سے کسی حد کا تعین نہیں کریں گی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic