1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں والے افغان مہاجرین جرمنی سےواپس جائیں

جرمنی کےصوبہ باویریا کے وزیر داخلہ یوآخِم ہَیرمن نے کہا ہے کہ افغانستان اور اس جیسے دیگر شورش زدہ ممالک کے ان پناہ گزینوں کو جرمنی بدر کیا جائے جن کی پناہ کی درخواستیں نا منظور ہو چکی ہیں۔

Deutschland Joachim Herrmann Innenminister Bayern

ہیرمن نے جرمنی کی سرحدوں پر ٹرانزٹ مراکز بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے

باویریا کے وزیر داخلہ کا یہ مطالبہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور بویریا میں ان کے قدامت پسند اتحادیوں کے درمیان اختلافات وسیع ہونے کا اشارہ ہے۔ یوآخِم ہَیرمن کی کٹر قدامت پسند سیاسی جماعت ’سی ایس یو‘ آئندہ سال ہونے والے وفاقی انتخابات سے قبل چانسلر میرکل پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ حال ہی میں میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا کے صوبائی انتخابات میں مہاجر مخالف سیاسی پارٹی ’اے ایف ڈی‘ کے ہاتھوں چانسلر میرکل کی پارٹی سی ڈی یو کی شکست یہ ظاہر کرتی ہے کہ اے ایف ڈی کی حمایت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

جرمن اخبار ’بلڈ ‘ نےیوآخِم ہَیرمن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے شمالی علاقوں اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے آنے والے ان مہاجرین کی واپسی پر اصرار کیا ہے جن کی جرمنی میں پناہ کے لیے درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ یاد رہے کہ میرکل کی حکومت اس سے قبل ایسا کرنے سے انکار کر چکی ہے۔ ہیرمن نے جرمنی کی سرحدوں پر ٹرانزٹ مراکز بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے جہاں بغیر پاسپورٹ یا دیگر شناختی دستاویزات کے داخل ہونے والے افراد کو حراست میں لیا جا سکے۔

صوبے بویریا کے وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے،’’ ایسے کسی شخص کو جرمنی کے ارد گرد گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس کے پاس خاطر خواہ شناختی ثبوت نہ ہوں۔ ایسے افراد جن کے پاس شناختی دستاویزات موجود نہ ہوں، ان کو حراست میں لیا جانا چاہیے اور پھر اُنہیں واپس بھیج دینا چاہیے۔‘‘ ہیر من کا یہ بیان جرمنی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں قانونی حد بندی اور دوہری شہریت کے خاتمے کی حمایت میں ہے۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel

سی ایس یو کے سربراہ ہارسٹ زے ہوفر نے تاحال میرکل کے بطور چانسلر چوتھی بار کھڑے ہونے کی توثیق نہیں کی ہے

دوہری شہریت کے خاتمے کا مطالبہ پانچ صفحات پر مشتمل دستاویز میں بنیادی مطالبہ ہے جس کی منظوری گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سی ایس یو کے رہنماؤں نے دی ہے۔ باویریا میں اپنا مرکز رکھنے والی ’سی ایس یو ’ اور میرکل کی سیاسی جماعت ’سی ڈی یو ‘ نے پارلیمانی اتحاد بناتے ہوئے چانسلرشپ کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم سی ایس یو کے سربراہ ہارسٹ زے ہوفر نے تاحال میرکل کے بطور چانسلر چوتھی بار کھڑے ہونے کی توثیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب گزشتہ اتوار کو میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا کے صوبائی انتخابات میں میرکل کی جماعت کی شکست نے اس قیاس کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ میرکل آئندہ انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے کھڑی نہیں ہو سکیں گی۔

DW.COM