1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسافر پروازیں پی آئی اے کی، طیارے اور عملہ سری لنکا کے

انتہائی حد تک مقروض سری لنکن ایئر لائنز نے اپنے نئے ایئر بس طیارے پَٹے پر پاکستان اور ایران کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح آئندہ پاکستانی فضائی کمپنی پی آئی اے کی کئی مسافر پروازوں کے طیارے اور عملہ سری لنکن ہوں گے۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے جمعرات اکیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سری لنکن ایئر لائنز کو اس وقت مجموعی طور پر قریب ایک ارب ڈالر کے مالی نقصانات کا سامنا ہے، جنہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس ایئر لائن نے اب اپنے نئے ایئر بس طیارے دوسرے ملکوں کو پَٹے پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ملک پاکستان اور ایران ہیں۔

سری لنکا کے سرکاری صنعتی اور کاروباری اداروں کی ترقی کے وزیر کبیر ہاشم نے آج کولمبو میں کہا، ’’ہم عنقریب ہی پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پی آئی اے کے ساتھ کم از کم ایک ایئر بس A330 طیارے کی لیز کا معاہدہ طے کرنے والے ہیں۔‘‘

کبیر ہاشم نے کہا کہ اس طیارے کو ایک ایئر لائن کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز چلائے گی لیکن اس کا عملہ سری لنکن ہو گا اور اس مسافر طیارے کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کا مرکز برطانوی دارالحکومت لندن ہو گا۔

سری لنکا کے اس وزیر نے بتایا کہ یہ طیارہ لاہور اور اسلام آباد کی طرف تجارتی پروازوں کے لیے استعمال کیا جائے گا اور ’ہماری پی آئی اے کے ساتھ اس بارے میں بات چیت بھی جاری ہے کہ سری لنکن ایئر لائنز پی آئی اے کو کم از کم تین اور A330 طیارے بھی پَٹے پر فراہم کر سکے‘۔

Symbolbild IranAir

ایران ایئر بھی سری لنکن ایئرلائنز کے ایئر بس مسافر طیارے پٹے پر حاصل کرے گی

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی سری لنکا کے یہ مسافر طیارے لیز پر حاصل کرنے میں بہت دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کبیر ہاشم کے بقول ایران سری لنکن ایئر لائنز سے ایک بڑا A350 مسافر طیارہ پَٹے پر حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ اگلے چند ہی ماہ میں ایران کے حوالے کر دیا جائے گا۔

سری لنکن ایئر لائنز کا مجموعی کاروباری خسارہ اس وقت 993 ملین امریکی ڈالر کے برابر ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے یہ فضائی کمپنی آئندہ مہینوں میں نہ صرف کئی یورپی شہروں کے لیے اپنی مسافر پروازیں بند کر دینے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ اپنے کاروبار میں اضافے کے لیے نئے تجارتی ساتھیوں کی تلاش میں بھی ہے۔

DW.COM