1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسافر طیارے کی تباہی: لاشیں کراچی پہنچنا شروع

جمعرات کی صبح چار بجے کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پی آئی اے کا ایک طیارہ جیسے ہی رن وے پر اترا، کارگو ٹرمینل پر بہت سے لوگوں کی دبی دبی سسکیاں بلند آواز آہ وفغاں میں تبدیل ہوگئیں۔

default

اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے ایئر بلیو کے ایک مسافر کی میت باہر لائی جا رہی ہے

پی آئی اے کی اس پرواز کے ذریعے اسلام آباد کے نواح میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہونے والے ایئر بلیو کے ایک مسافر ہوائی جہاز میں سوار افراد میں سے تین کی لاشیں کراچی لائی گئی تھیں۔

Pakistan Flugzeug Absturz Air Blue

مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایئر بلیو کے تباہ شدہ طیارے کا ملبہ

کراچی سے اسلام آباد جانے والے اس طیارے کی تباہی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ان افراد کی لاشیں باقی بہت سے ہلاک شدگان کی لاشوں کے مقابلے میں قابل شناخت تھیں۔ اسی لئے وہ فوری طور پر تدفین کے لئے ان کے لواحقین کو بھجوا دی گئیں۔ ان میں سے دو لاشیں فیصل رشید اور آصف رشید نامی دو بھائیوں کی تھیں اور تیسری ایک ایسی نوجوان خاتون کی، جس کی ابھی حال ہی میں شادی ہوئی تھی، جس کا نام عائشہ آصف تھا اور جس کے اسی حادثے میں ہلاک ہو جانے والے شوہر آصف شہزاد کی لاش کی تاحال شناخت نہیں کی جا سکی۔

کراچی ایئر پورٹ کے کارگو ٹرمینل پر ان ہلاک شدگان کے لواحقین کے رنج و الم کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ دونوں بھائیوں کی لاشیں وصول کرنے کے لئے آنے والے ان کے اہل خانہ غم سے نڈھال تھے لیکن پھر بھی ایک دوسرے کو تسلی دینے کی کوششیں کر رہے تھے۔ ان سوگواروں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ فیصل رشید اور آصف رشید کا بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن قسمت نے انہیں اس طیارے میں سوار کرا دیا۔

Pakistan Flugzeug Absturz - Angehörige

ہلاک شدگان کے چند سوگوار لواحقین ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے

اپنی مہندی کے رنگ پھیکے پڑنے سے پہلے ہی جاں بحق ہو جانے والی دلہن عائشہ کے گھر والوں کا غم بھی ناقابل برداشت تھا۔ عائشہ کے ایک بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے گھرانے پر شادی کی خوشیوں کے فوراﹰ بعد غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

کراچی میں یوتھ پارلیمنٹ سے تعلق رکھنے والے چھ نوجوان بھی اسی شہر کے باسی تھے۔ ان کے اہل خانہ بھی شدید غم کا شکار ہیں۔ ان نوجوانوں کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔ نوجوانوں کے اس وفد میں شامل ایک لڑکی رباب کے والد نے اپنی بیٹی کی طرف سے ایئربلیو کی حادثے کا شکار ہو جانے والی پرواز کی کراچی سے روانگی سے چند ہی لمحے قبل رباب کا ارسال کردہ وہ ایس ایم ایس پیغام بھی ڈوئچے ویلے کو دکھایا، جس میں اس لڑکی نے اپنی بخیریت روانگی کی اطلاع دی تھی۔

ایئربلیو کی اس پرواز کے بیشتر مسافروں کا تعلق کراچی سے تھا۔ ان ہلاک شدگان کے لواحقین یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ یہ فضائی کمپنی ان سے تعاون نہیں کر رہی، خاص کر ان ہلاک شدگان کے لواحقین جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔

جمعرات کی شام پی آئی اے کا ایک اور طیارہ مزید سات لاشیں لے کر کراچی پہنچ گیا۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا۔ جمعرات کی شام کراچی پہنچنے والی میتوں کی نماز جنازہ ایئر پورٹ پر ہی پڑھی گئی۔

رپورٹ: رفعت سیعد، کراچی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس