1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسافر بردار کشتی کا اغوا: ترک کمانڈوز کی کارروائی

ترکی کو کرد علٰیحدگی پسندوں کی مسلح تحریک کا سامنا ہے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران ان باغیوں نے پے درپے مسلح کارروائیوں سے اپنی تحریک میں شدت پیدا کردی ہے۔ شبہ ہے کہ اب انہوں نے ایک کشتی کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کی۔

default

ترک فوج

ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ہائی جیک کی گئی کشتی کو واگزار کروا لیا گیا ہے۔ کشتی بارہ گھنٹے سے زائد وقت تک ہائی جیکرز کے قبضے میں رہی۔ ترک فوج کے کمانڈوز نے علی الصبح کارروائی کر کے کشتی پر کنٹرول حاصل کیا۔ ایک کمانڈو کی ہلاکت کا بھی بتایا گیا ہے۔ ہائی جیکرز نے کشتی اغوا کرنے کے بعد اسے استنبول کے نواحی مقام سلویری اینکر کیا ہوا تھا۔

ترک کمانڈوز کی کارروائی کے وقت کشتی پر صرف ایک ہائی جیکر موجود تھا۔ پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ کشتی کو چار یا پانچ مشتبہ افراد نے اغوا کیا۔ کشتی پر موجود اکلوتا ہائی جیکر کمانڈوز کے فائر کا نشانہ بنا۔ فوجی کارروائی کے وقت بعض مسافروں نے اپنی جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگیں بھی لگائیں۔

Imrali

بحیرہ مرمرہ کے جزیرے امرعلی کی فضائی تصویر

جمعہ کو بحیرہ مرمرہ میں ایک مسافر بردار کشتی کو مسلح افراد نے اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ ترک وزیر ٹرانسپورٹ بن علی یلدرم نے اس کارروائی پر ترک علٰیحدگی پسندوں پر شبہ ظاہر کیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بحیرہ مرمرہ میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے امرعلی میں قائم ایک جیل میں ترک علٰیحدگی پسند لیڈر عبداللہ اوجلان اپنی سزائے قید بھگت رہے ہیں۔ یہ جزیرہ اغوا کے مقام سے 120 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

ترک وزیر بن علی یلدرم کا یہ بھی کہنا تھا کہ چار یا پانچ افراد نے ابتداء میں کشتی کا کنٹرول اس وقت سنبھالا جب وہ ترکی کے شمال مغربی حصے میں واقع بحیرہ مرمرہ سے گزر رہی تھی۔ وزیر کے مطابق کشتی پر انیس مسافروں کے علاوہ عملے کے چار اراکین کے ہمراہ دو تربیت کار بھی شامل تھے۔ کشتی پر قبضہ کرنے والوں نے حکومت سے کوئی باضابطہ مطالبہ نہیں کیا ہے۔

Türkei Kurden PKK Demonstration in Istanbul

کرد آبادی کے جلوس میں ایک خاتون مقید لیڈر اوجلان کی تصویر اٹھائے ہوئے

اس دہشت گردانہ کارروائی کی مناسبت سے مقامی علاقے کے میئر اسماعیل کارا عثمان اوگلو نے ٹیلی وژن چینل این ٹی وی (NTV) کو بتایا کہ اس واردات کے وقت ایک دہشت گرد نے کشتی کے کپتان کو بم سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔

بحیرہ مرمرہ کے دو مقامات ازمیت اور گلجوک کے درمیان کشتی اپنی معمول کے سفر میں تھی کہ مسلح افراد اسے جنوب مغرب کی جانب لے گئے۔ کردستان ورکرز پارٹی کو ترکی سمیت کئی دوسرے ملکوں میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ تنظیم ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سن 1984 سے ایک علٰیحدہ وطن کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM