1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ضروری: انڈین آرمی چیف

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران نیم فوجی عملے اور ریاستی پولیس کی فائرنگ سے بارہ نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ نے کشمیر تنازعے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔

default

کشمیر میں گزشتہ تین برسوں سے ہند مخالف مظاہروں میں شدت آئی ہے

دوسری جانب حکام نے مزید مظاہروں پر قابو پانے کے لئے شورش زدہ وادیء کشمیر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

Grenze zwischen Indien und Kaschmir Soldaten

کشمیر میں پانچ لاکھ سے بھی زیادہ بھارتی فوجی تعینات ہیں

بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے مسلم اکثریتی وادی میں حالیہ تشّدد اور احتجاجی مظاہروں کے دوران غیر مسلح ٹین ایجرز پر فائرنگ کے واقعات کے تناظر میں کشمیر مسئلے کے سیاسی حل کی وکالت کی ہے۔ بھارت سے شائع ہونے والے معروف انگریزی روزنامے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل وی کے سنگھ نے بتایا:’’میرے خیال میں اب مختلف سیاسی نظریات کے حامل لوگوں کو اکھٹا کرکے اُن کے ساتھ جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔ بھارتی فوج نے کشمیر میں داخلی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر قابو تو پالیا ہے لیکن اب مسائل کو سیاسی لحاظ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

Kaschmir Kashmir Indien Polizei Protest Demonstration Muslime Steine Flash-Galerie

سری نگر میں ریاستی پولیس کا ایک اہلکار اپنے ہاتھوں میں پتھر چھپائے ہوئے

بھارتی فوج کے سربراہ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ ریاستی پولیس کو اب ’’مزید سرگرم ہونے کی ضرورت ہے‘‘ تاکہ کشمیر میں تعینات تقریباً پانچ لاکھ فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جا سکے۔ کشمیر میں حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں حیران کن کمی ہوئی ہے تاہم گزشتہ تقریباً تین سال سے بھارت مخالف عوامی مظاہروں میں زبردست شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

Omar Abdullah, neuer junger Ministerpräsident (Chief Minister) des indischen Teils von Kashmir, kurz nach dem Wahlsieg seiner Partei

شورش زدہ ریاست جموّں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

ادھر نئی دہلی کے زیر انتظام ریاست جموّں و کشمیر میں حکام نے کرفیو کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ بدھ کے روز کشمیر کے قصبےسوپور میں نیم فوجی عملے کے ہزاروں اہلکاروں نے سڑکوں پر گشت کیا۔ ’چھوٹا لندن‘ اور ’ایپل ٹاوٴن‘ کے ناموں سے مشہور اس علاقے میں گزشتہ چھ روز سے مسلسل کرفیو نافذ ہے۔ سوپور، گرمائی دارالحکومت سری نگر اور جنوبی ضلع اننت ناگ میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ان تینوں ہی علاقوں میں تناوٴ کی کیفیت ہے۔ سری نگر، بارہ مولہ اور اننت ناگ اضلاع میں دکانیں، کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور پرائیویٹ ادارے کئی روز سے بند ہیں۔

دریں اثناء ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو کی خلاف ورزی نہ کریں۔’’لوگوں کو اپنے گھروں میں رہ کر کرفیو کی پابندی کرنی چاہیے۔‘‘ شہری ہلاکتوں پر افسوس کے بجائے کرفیو کے نفاذ کی پابندی کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے عمر عبداللہ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان سن 1947ء سے اب تک کشمیر تنازعے پر دو جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ حقوق انسانی کی متعدد تنظیموں کے مطابق کشمیر میں گزشتہ اکیس برسوں سے جاری ہند مخالف مسلح جدوجہد کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد کشمیری جاں بحق ہوئے ہیں۔ علٰیحدگی پسند مرنے والے شہریوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ بتاتے ہیں جبکہ حکام کے نزدیک یہ تعداد 47 ہزار ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM