1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر: پاکستان، بھارت اختلافات ختم کریں، چینی مطالبہ

چین نے پاکستان اور بھارت سے دو ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انہیں کشمیر کے منقسم اور متنازعہ خطے سے متعلق اپنے عشروں پرانے باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنا چاہیے۔

چینی دارالحکومت سے بدھ اٹھائیس ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق بیجنگ حکومت نے اسلام آباد اور نئی دہلی سے یہ مطالبہ ایسے وقت پر کیا ہے جب ہمالیہ کے متنازعہ خطے کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں ایک حالیہ خونریز حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان پر طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں سرگرم عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے بلکہ وہ بھارت کے دیگر علاقوں میں عسکریت پسندانہ کارروائیاں کرنے والے جنگجوؤں کو بھی وہاں بھیجتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے ان بھارتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں کشمیریوں کی جدوجہد کی صرف اخلاقی طور پر تائید کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق چین کے نائب وزیر خارجہ نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے چین میں موجود خصوصی مندوبین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’چین امید کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت باہمی مکالمت کے تمام راستوں کو بروئے کار لائیں گے، اپنے اختلافات کو ختم کرنے کی مناسب کوششیں کریں گے، دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنائیں گے اور مل کر علاقے میں امن و استحکام کا دفاع کریں گے۔‘‘

Indien Unabhängigkeitstag in Neu-Delhi (picture-alliance/dpa/EPA/H. Tyagi)

بھارتی وزیر اعظم مودی نے نومبر میں سارک سمٹ کے لیے اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا

چینی نائب وزیر خارجہ لیُو ژَین مِن نے پاکستانی مندوبین کو یہ بھی بتایا کہ بیجنگ حکومت مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کو بڑی اہمیت کی نظر سے دیکھتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین موجودہ کشیدگی کل منگل ستائیس ستمبر کے روز اس وقت مزید بڑھ گئی تھی، جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنوبی ایشیائی علاقائی تنظیم برائے تعاون یا سارک کے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نومبر میں اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری طرف پاکستانی حکومت نے بھی خبردار کر دیا تھا کہ اگر بھارت نے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین دریائی پانی کے ایک معاہدے پر عمل درآمد منسوخ کر دیا، تو اسلام آباد اسے ایک ’جنگی اقدام‘ تصور کرے گا۔