1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسئلہ کشمیر: بے انتہا حب الوطنی اور پینسٹھ کی جنگ

1965ء کی جنگ کے پچاس برس مکمل ہونے پر پاکستان میں خصوصی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ ڈی ڈبلیو نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مسئلہ کشمیر ہمسایہ ممالک کے مابین کیوںکر بدستور وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے اور اس کا فائدہ کس ہو رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے مابین 1965ء میں لڑی گئی جنگ میں دونوں ممالک ہی جیت کے دعوے کرتے ہیں لیکن متعدد غیر جانبدار مؤرخین اور محققین کے مطابق اس جنگ سے پاکستان مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا، جسے پاکستان کی شکست بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ادھر بھارت بھی اس جنگ کے پچاس برس مکمل ہونے پر خود کو ’فتح یاب‘ قرار دیتے ہوئے یادگاری تقریبات کا انعقاد کر رہا ہے۔

DW.COM

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو قوم پرست سیاستدان نریندر مودی نے اس سلسلے میں تین ہفتوں پر محیط یادگاری تقریبات منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت میں یہ تقریبات اٹھائیس اگست سے شروع ہوئیں، جو بائیس ستمبر تک جاری رہیں گی۔ ناقدین کے مطابق مودی کا مقصد دراصل علاقائی سطح پر بھارت کو سپر پاور کے طور پر ابھارنے کی کوشش اور اپنی عسکری طاقت کی نمائش کرنا ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں ہی قوم پرستی کے بے انتہا جذبات پائے جاتے ہیں اور دونوں ممالک میں ہی پینسٹھ کی جنگ کی سلور جوبلی کی شاندار تقریبات کو ان جذبات کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔ حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران پاکستان اور بھارت میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بے انتہا حب الوطنی کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جو ’جنگی جنون‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران بھی کشمیر کا تنازعہ سوشل میڈٰیا پر چھایا رہا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تناؤ کا باعث سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہی ہے۔ بائیس اگست کو پاکستان نے بھارت کے ساتھ مجوزہ مذاکرات یہ کہہ کر منسوخ کر دیے تھے کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل بھارت نے کہا تھا کہ ان مذاکرات میں صرف دہشت گردی کے معاملے پر ہی بات کے جائے گی جبکہ پاکستان اس دوران کشمیر کے تنازعے پر بھی گفتگو کرنے کا خواہاں تھا۔

جنگ جیتا کون؟

اسلام آباد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر میں علیحدگی پسندوں کو صرف سیاسی حوالے سے ہی مشاورت فراہم کرتی ہے جبکہ کچھ مبصرین کے مطابق آزادی کے بعد سے پاکستان ان علیحدگی پسندوں کو نظریاتی اور عسکری تعاون فراہم کر رہا ہے۔ متعدد سکالرز کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے بھی 1947ء میں کشمیر میں مداخلت کے لیے جہادیوں سمیت ’بے قاعدہ دستے‘ روانہ کیے تھے، جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے مابین پہلی جنگ بھی ہوئی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں بھارت کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے قابل ہو گیا تھا جبکہ پاکستان اس دوران ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی کنٹرول حاصل کر سکا تھا۔

امریکا میں مقیم اسکالر عارف جمال نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1965ء کی جنگ کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دوسری جنگ چھ ستمبر کو شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ بہت پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔‘‘

عارف جمال نے مزید کہا کہ پاکستان نے ’آپریشن جبرالٹر‘ کے تحت ستمبر 1965ء سے قبل ہی کم از کم ایک ہزار فوجی کشمیر میں روانہ کیے تھے۔ عارف جمال کے مطابق کشمیر میں اس مداخلت کے جواب میں بھارتی افواج نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر ایک نیا محاذ کھول دیا تھا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد حکومت نے اقوام متحدہ سے سیز فائر کی ’بھیک‘ مانگنا شروع کر دی تھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان اس جنگ میں فاتح رہا تھا۔

بندرگاہی شہر کراچی میں سکونت پذیر ماہر معاشیات اور انسانی حقوق کے کارکن شاہرام اظہر کے مطابق، ’’1965ء کی جنگ کے دوران بھارت اور پاکستان کے تیرہ ہزار افراد مارے گئے تھے۔ پچاس برس بعد بھی دونوں ممالک کے قوم پرست ہمیں یہ بتانے کی کوشش میں ہیں کہ یہ موقع دراصل جشن منانے کا ہے۔ صرف ایک لفظ ہی میں اس جشن کو بیان کیا جا سکتا ہے، اور وہ ہے ’پاگل پن‘۔‘‘

نوجوان نسل امن کی خواہاں

بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں انتہا پسند ’جنگی جنون‘ کا شکار ہیں لیکن ساتھ ہی ان ممالک کے نوجوانوں میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک جذبہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں لبرل طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو بھول کر دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا جائے۔ ان حلقوں کے مطابق پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے دوستی اور اچھے تعلقات قائم کیے بغیر ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

Narendra Modi

بھارتی وزیر اعظم مودی نے بھی بڑے پیمانے پر تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے

دستاویزی فلموں کے ڈائریکٹر وجاہت ملک نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین بہتر تعلقات کے لیے دونوں ممالک کے عوام کا براہ راست ملنا جلنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارت، سیاحت اور دونوں ممالک کے عوام کے مابین براہ راست رابطے سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں ایشین ہیومن رائٹس کمیشن سے وابستہ سینیئر محقق بصیر نوید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اگر تنازعات برقرار رہتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف پاکستان اور بھارت میں فعال انتہا پسند گروہوں کو ہو گا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہ دونوں ممالک کے مابین صرف جنگ اور دشمنی ہی چاہتے ہیں۔