مسئلہ فلسطين، اسرائيل اور سويڈن کشيدگی کا شکار | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسئلہ فلسطين، اسرائيل اور سويڈن کشيدگی کا شکار

سويڈش وزير کے اُس بيان کے بعد کہ اسرائيلی فوج فلسطينيوں کے غير قانونی قتل ميں ملوث رہی ہيں، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اِن دنوں کافی خراب ہيں۔ اسٹاک ہوم حکومت نے رد عمل ميں کہا ہے کہ اس بيان کو بڑھا چڑھا کر پيش کيا گيا۔

اسرائيل کی جانب سے اتوار کے روز کہا گيا تھا کہ سويڈش وزير نے اس پر غير قانونی قتل کا الزام عائد کيا ہے، جس کے رد عمل ميں اسٹاک ہوم حکام نے کہا کہ بيان کو کافی طول دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات گزشتہ برس اُس وقت سے کافی خراب ہيں جب سويڈش سوشل ڈيموکريٹس کی حکومت نے فلسطين کو بطور رياست تسليم کر لیا تھا۔ بعد ازاں سويڈش وزير خارجہ مارگوٹ وولسٹروم نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ ’فلسطينيوں کی حالت زار اسلامی انتہا پسندی کے پھيلنے کی ايک وجہ ہے‘۔ ان کے اس بيان کے نتيجے ميں بھی تل ابيب اور اسٹاک ہوم کے تعلقات ميں مزيد خرابی پيدا ہوئی تھی۔

سويڈش وزير نے کہا کہ سڑکوں پر نمودار ہونے والے حاليہ پر تشدد واقعات ميں ملوث فلسطينيوں کو اسرائيلی فوجی اہلکاروں نے غير قانونی انداز ميں قتل کيا۔ وولسٹروم کے بيان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائيلی حکام نے اسے ايک ’اسکينڈل‘ قرار ديتے ہوئے اس کی شديد مذمت کی۔ انہوں نے اسٹاک ہوم کو سفارتی تعلقات ميں خرابی کی تنبيہ بھی کی۔ اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو نے بھی اپنی کابينہ سے خطاب کرتے ہوئے وولسٹروم کے بيان کی سخت مذمت بھی کی۔

جواباً سويڈش حکام نے کہا ہے کہ وولسٹروم کے بيان کو غلط انداز ميں ليا گيا اور اس کے معنی وہ نہيں جو سمجھے جا رہے ہيں۔ سويڈن کے وزير اعظم اسٹيفان لوفوَین اور وزیر خارجہ مارگوٹ وولسٹروم نے ايک مشترکہ بيان ميں کہا، ’’وزير خارجہ نے يہ نہيں کہا تھا کہ اسرائيل ميں ماورائے عدالت قتل ہوتے ہيں۔‘‘ بيان ميں مزيد کہا گيا ہے کہ مشرق وسطٰی کے حالات ويسے ہی کافی پيچيدہ ہيں اور ايسے ميں کسی فريق کے ارادوں کے حوالے سے غلط فہمی کی گنجائش نہيں۔ قبل ازيں گزشتہ جمعے کے دن سويڈش وزير خارجہ نے فلسطينيوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں پر تنقيد کی تھی اور اسرائيل پر بھی زور ديا تھا کہ طاقت کے استعمال سے گریزکيا جائے۔

اس معاملے پر سويڈن کا موقف ہے کہ وزير خارجہ کا بيان بين الاقوامی قوانين کے مطابق دفاع ميں کی جانے والی کارروائی اور ايسی صورتحال ميں مناسب جوابی کارروائی کے حوالے سے تھا۔ تاہم وولسٹروم کا یہ بيان اسرائيل ميں کافی تنقيد کی زد میں آیا۔ اسرائيل اور فلسطين کے مابين کشيدگی کی تازہ لہر ميں يکم اکتوبر سے اب تک اسرائيلی افواج 103 فلسطينيوں کو ہلاک کر چکی ہيں۔ ان ميں سے 64 وہ تھے، جنہوں نے اسرائيليوں پر براہ راست حملے کيے جبکہ باقی جھڑپوں وغيرہ ميں مارے گئے۔ فلسطينيوں کے حملوں ميں اب تک انيس اسرائيلی بھی ہلاک ہو چکے ہيں۔ ماہرين کے مطابق فلسطينيوں کی جانب سے حملوں ميں اضافہ يروشلم ميں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات اور دونوں ملکوں کے مابين امن عمل کی تعطلی ہے۔