1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مسئلہِ فلسطین: پوپ کا دو ریاستی حل پر زور

سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات میں آج پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم اسرائیل پہنچے۔ اس موقع پر 60 ہزار اسرائیلی پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

default

تل ابیب کے بین گوریان ہوائی اڈے پر پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم کا استقبال فوجی اعزاز کے ساتھ کیا گیا

کلیسائے روم کے سربراہ نے سہ پہر میں نازی سوشلسٹوں کے ہاتھوں قتل عام کا شکار ہونے والے یہودیوں کی یادگار یاد واشم کا دورہ کیا۔ اسرائیل پہنچتے ہی پاپائے روم نے اپنے اس دورے کے دوران زیر بحث آنے والے اہم ترین موضوعات کا ذکر کر دیا تھا۔

تل ابیب کے بین گوریان ہوائی اڈے پر پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم کا استقبال فوجی اعزاز کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر اسرائیل کے قومی ترانے کے ساتھ ساتھ ویٹیکن کا ترانہ بھی فضا میں گونج رہا تھا۔

Papstbesuch Naher Osten

اردن کا ایک جنگی طیّارہ پاپائے روم کے جہاز کی حفاظت کرتا ہوا

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا، جرمن نژاد پاپائے روم بینیڈکٹ شانزدہم کا اسرائیل پہنچنے پر اپنے چرچ کی جانب سے پہلا پیغام یہودیوں کے نام تھا۔ انھوں نے نازی سوشلسٹ دور میں ہونے والے یہودیوں کے قتل عام پر کیتھولک چرچ کی طرف سے گہرے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم یہود کو ایک بنیاد پرست اور انتہا پسند نظریے کا شکار بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ صہونیت دشمن سوچ اور رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گے۔ اور انکا یہ دورہ اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ دورہ ایک سنہری موقع ہے اور شعا کے شرمناک واقعہ کے شکار چھ ملین یہودیوں کو کیتھولک کلیسا کی طرف سے نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا، ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کے بھرپور اظہار کا، اس موقع پر دعا کرنے کا کہ آئندہ کبھی انسانوں کو اس نوعیت کے واقعات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پاپائے روم کے اس بیان کو بہت زیادہ اہم اس لئے بھی تصور کیا جا رہا ہے کہ کیتھولک عیسائی حلقوں میں بینیڈکٹ شانزدہم کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کو جھٹلانے والے ایک انگریز بشپ ولیمسن کو دوبارہ کیتھولک کلیسا میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد سے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس اسکینڈل نے پاپائے روم کی ساکھ کو خاصی حد تک نقصان پہنچایا ہے۔

Papst im Nahen Osten

اردن میں بھی پوپ کا شاندار استقبال کیا گیا تھا

پاپائے روم نے بین المذاہبی مکالمت کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چرچ کی سروس کے دوران دیگر عیسائی گروپوں کے ساتھ بھائی چارگی اور ہمدردی نیز دنیا کے مختلف جنگ اور بحران زدہ اور انسانی المیے کے شکار علاقوں کے اپنے گھروں سے بے گھر ہوجانے والے انسانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور بھائی چارگی کو فروغ دیا جانا چاہئے۔

پاپائے روم نے مختلف ثقافتوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کے عمل پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لئے ہمت اور عزم کی ضرورت ہے۔

تل ابیب کے ہوائی اڈے پر پاپائے روم نے اپنے بیان میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ لاتعداد انسانوں کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل سے بہت سی امیدیں ہیں۔ کیتھولک چرچ کے سربراہ کے مطابق اس خطے میں پائیدار امن کی ضمانت عالمی برادری کی طرف سے تسلیم شدہ دو ریاستوں کا قیام ہی ہوسکتی ہے۔