’مزید قرضہ مسائل کا حل نہیں‘ پاکستانی اقتصادی ماہرین | معاشرہ | DW | 13.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’مزید قرضہ مسائل کا حل نہیں‘ پاکستانی اقتصادی ماہرین

پاکستانی نگراں حکومت ملکی معاشی اور اقتصادی مسائل پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید قرضوں کی بات کر رہی ہے۔ایسے میں تجزیہ کاروں کے مطابق قرضہ لیتے ہوئے قرضہ اتارنے کے بجائے معاملات بہتر بنانےکی زیادہ ضرورت ہے۔ 

منگل بارہ جون کو ملکی دارالحکومت اسلام آباد میں نگراں  وزیر خزانہ شمشاد اختر نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی تجارت میں 25 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اور  اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے زر مبادلہ کے ذخائر استعمال کرنا پڑیں گے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کے باعث  ملکی معاشی اور مالیاتی حالات میں یہ  ابتری نظر آرہی ہے؟

 اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کہتے ہیں کہ مالیاتی حالات میں ابتری کی سب سے بڑی وجہ زرمبادلہ میں کمی ہے، ’’ ہمارے ڈالرز آنے کے جو ذرائع ہیں مثلاﹰ ترسیلات ، برآمدات اور سرمایہ کاری ،تو یہ اس وقت ناکافی ہیں۔  اس کے بجائے قرضوں پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں کا جائزہ لیں تو کچھ چیزوں میں بہتری بھی آئی مثلاﹰ ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی، شرح سود میں کمی آئی، سرمایہ کاری بھی ہوئی اور برآمدات بھی بہتر ہوئیں لیکن اس کے باوجود اگر پچھلے دو سالوں کی بات کریں تو اس طرح برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، ترسیلات میں اضافہ نہیں ہوا جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور سیاسی بے یقینی ہے۔ اس سیاسی بے یقینی کی وجہ سے سرمایہ کار اس خوف کا شکار رہے کہ شاید پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہو۔ لیکن امید ہے کہ آنے والے دنوں میں انتخابات کے بعد حالات میں کچھ بہتری آئے۔‘‘

پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نئے چینی قرضے

ڈالر کی قدر میں اضافہ، پاکستانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں پہلی ہی کمی ہے، وہاں مالی ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے ان ذخائر کو استعمال کیے جانے سے بڑے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے خرم شہزاد کہتے ہیں، ’’ ابھی اگر زرمبادلہ  کے ذخائر کی صورتحال دیکھیں، تو یہ تقریباﹰ 16ارب ڈالر کے قریب ہیں اور اس میں جو مرکزی بینک کا حصہ ہوتا ہے وہ تقریباﹰ 10 ارب ڈالر ہے۔ دنیا بھر میں ایک معیار یا پیمانہ ہوتا ہے جس کے مطابق ہر مہینے ہونے والی درآمدات کو جانچا جاتا ہے  کہ آخر جو زرمبادلہ  ہے،  وہ کتنے عرصے تک ضرورت کو پورا کر سکتا ہے جس سے معیشت کی نمو بھی نہ رکے اور ضروری  درآمدات مثلاﹰ تیل، غذا، مشینری ، خام مال وغیرہ آنا بھی نہ رکے۔تو اس وقت اتنا زرمبادلہ ہے جو دو مہینے کی درآمدات کو پورا کر سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی معیار تین مہینے کا مقرر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آہستگی سے خدشات پیدا ہونا شروع ہو رہے ہیں۔‘‘

نگراں حکومت کی جانب سے مزید قرضے لیتے ہوئے قرضے اتارنے کے حوالے سے خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ایک کام تو یہ ہو سکتا ہے کہ یا تو دوست ممالک مثلاﹰ چین سے طویل المدتی قرضے کی بات کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جب انتخابات کے بعد نئی حکومت آجاتی ہے تو وہ نئی اصلاحات لائے، ٹیکسوں کے دائرہ کار کو بڑھائے، ٹیکس کے نظام میں بہتری لائے  اور وسائل میں اضافہ کرے یعنیٰ قرضہ لیتے ہوئے قرضہ اتارنے کے بجائے معاملات کو بہتر بنایا جائے۔

DW.COM