1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مزید انتظار نہیں ہو گا، ایردوآن کا یورپی یونین کو انتباہ

ترک صدر نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کی ممبر شپ کے حوالے سے عشروں سے جاری مذاکرات پر انقرہ حکومت کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترکی اور یورپی یونین میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین انقرہ حکومت کو فوری طور پر مطلع کرے کہ آیا وہ ترکی کو یورپی یونین کا رکن بنانا چاہتی ہے یا نہیں۔ یکم اکتوبر بروز ہفتہ پارلیمان سے خطاب میں ایردوآن نے کہا کہ اس معاملے پر ترکی نے بہت انتظار کر لیا ہے اور اب وہ مزید انتظار کا متحمل نہیں ہے۔

ترکی میں مہاجرین کے لیے یورپی یونین کا کیش کارڈ

مہاجرین کی ڈیل پر ’بڑوں‘ کی کڑی تنقید

مہاجرین کی ڈیل کے پیسے کہاں ہیں؟ ترک صدر یورپی یونین پر برہم

 

ایردوآن کا کہنا تھا کہ اب یہ وضاحت ضروری ہو گئی ہے کہ برسلز اس بارے میں کیا سوچ رہا ہے۔ ایردوآن نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو مہاجرین کی ڈیل کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کو وفا کرتے ہوئے اکتوبر کے مہینے میں ترک شہریوں کو شینگن زون میں بغیر ویزے کے سفر کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

 رواں سال مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والی اس ڈیل کے تحت ترکی نے بحیرہ ایجیئن سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کو روکنا ہے جبکہ اس کے عوض یورپی یونین نے ترکی کو مالی امداد فراہم کرنے کے علاوہ ترک شہریوں شینگن زون ممالک میں بغیر ویزہ سفر کرنے کی اجازت دینے پر بھی اتفاق ظاہر کیا تھا۔

ترکی میں پندرہ جولائی کو فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد البتہ ترکی اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات میں سرد مہری ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اس ناکام بغاوت کے بعد ترک حکومت نے اس بغاوت میں مبینہ طور پر شریک ’شرپسند عناصر‘ کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

تاہم یورپی یونین اس حکومتی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں صدر ایردوآن کو قانون کی جائز حکمرانی میں تسلسل رکھنا چاہیے۔

ترکی اور یورپی یونین کی ڈیل خاتمےکے سائے
ترکی اگلے سات برسوں میں یورپی یونین کی رکنیت کا خواہش مند

ویزا فری انٹری کا دارومدار ترکی پر ہے، جرمن وزیر خارجہ

اس کشیدگی کے باوجود ایردوآن نے کہا ہے ، ’’اگر یورپی یونین ترکی کو مکمل رکن بنانا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں۔ تاہم انہوں معلوم ہونا چاہیے کہ اب ہم اس کھیل کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب اس بارے میں مزید تاخیر غیر ضروری ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایردوآن کے بقول اس معاملے پر مزید ’سفارتی شعبدے بازیوں‘ کی گنجائش نہیں ہے۔

Griechenland Flüchtlingsunterkünfte (picture-alliance/dpa/O. Panagiotou)

ترکی نے دو ملین سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، جن میں سے زیادہ تر یورپ پہنچنا چاہتے ہیں

ایردوآن کا یہ بھی کہنا ہے، ’’اب یہ انتخاب یورپی یونین نے کرنا ہے کہ اسے ترکی کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا نہیں۔ وہ (یورپی رہنما) اب اس معاملے پر ہمیں ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اکتوبر کا ماہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مہینے کے دوران ترک شہریوں کو شینگن زون میں بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دے دی جانا چاہیے۔

یہ امر اہم ہے کہ ترکی نے ساٹھ کی دہائی سے یورپی یونین میں شمولیت کی خاطر سرگرداں ہے تاہم اس حوالے سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز سن 2005 میں  ہوا تھا۔

 

DW.COM