مزمن عارضہ بے خوابی کا موثرعلاج: خاص قسم کے چشمے | صحت | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

مزمن عارضہ بے خوابی کا موثرعلاج: خاص قسم کے چشمے

بے خوابی بظاہر کوئی بیماری نظر نہیں آتی تاہم اگر اس کیفیت کو دور کرنے کی تدبیر وقت پر نہ کی جائے تو یہ کہنہ مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بے خوابی کا موثر علاج تازہ ہوا اور سورج کی روشنی ہو سکتی ہے۔

سڈنی میں قائم Woolcock Institut of medical Research سے منسلک طبی ماہرین نے بے خوابی کے شکار افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سونے کے اوقات اور روز مرہ کے معمول میں نظم و ضبط پیدا کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کے وقت کی پابندی سے زیادہ اہم اٹھنے کے اوقات اور صبح کی روشنی سے استفادہ ہے۔ اس ضمن میں نیند سے متعلق امراض کی ایک ماہر ڈیلوین بارٹیلٹ کا کہنا ہے،’ آپ کے بیدار ہونے کے وقت کا ہی سونے کا ضامن ہوتا ہے۔ بستر میں جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ نیند یقینی طور پر آ جائے گی۔ اس لیے سویرے سونے کی کوشش کرتے ہوئے جلدی بستر میں لیٹنے سے پرہیز کریں۔ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ اٹھنے یا بیدار ہونے کا وقت طے کرلیں اور اُس سے 8 گھنٹے پہلے تخت خواب کی طرف رخ کریں‘۔

Serge Gainsbourg

بے خوابی کا کہنہ مرض مریضوں میں سخت نفسیاتی مسائل پیدا کر دیتا ہے

ڈیلوین بارٹیلٹ سورج کی روشنی پر خاص طور سے زور دیتی اور اُس کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’ صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد چند گھنٹوں تک دھوپ کا چشمہ نہیں لگانا چاہیے۔ صبح کی تازہ ہوا میں سانس لینا صحت کےلیے نہایت مفید ہے۔ سب سے اچھا طریقہ صبح سویرے باغبانی کرنا ہے‘۔

ڈیلوین بارٹیلٹ صبح کے اجالے میں چاروں طرف پھیلی ہوئی روشنی کو نیند اور سونے اور جاگنے کے اوقات کو منظم کرنے والے ہارمون ’میلاٹونن‘ پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم عنصر قرار دیتی ہیں۔ میلاٹونن دراصل غنودگی، جسم کے درجہ حرارت گرنے اور نیند لانے والے دیگر عناصر کو تقویت دیتا ہے اور اس طرح یہ نیند لانے کی اولین شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔

Symbolbild Wecker Schlaflose Nächte Schlaflosigkeit

ہر جسم میں ایک قدرتی گھڑی موجود ہوتی ہے

جنوبی آسٹریلوی شہر ایڈیلیڈ میں قائم فلِنڈز یونیورسٹی کے چند محققین جلد ہی ایسے چشمے ایجاد کر لیں گے جو نیند کو منظم بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ ان کے شیشوں میں روشنی کے اخراج والے چھوٹے برقیرے لگے ہوں گے۔ یہ دوبارہ چارج ہونے اور دھوپ کے چشمے کے اثرات کا الٹ ثابت ہوں گے۔ ان چشموں کو صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد چند گھنٹوں تک پابندی سے پہنے رہنے سے جسم میں پائی جانے والی قدرتی گھڑی خود بخود ہی نارمل طریقے سے کام کرنے لگے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے چشمے ان لائٹ باکسز سے زیادہ کار آمد ثابت ہوں گے جن کے استعمال سے لوگ اپنے جسم کی قدرتی گھڑی کو جھٹکا دے کر اسے نارمل اوقات کے تحت چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے چشمے ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چشموں کو ہر وقت اور ہر جگہ ساتھ رکھا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ دوران سفر بھی۔

km/ah (dpa)