1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مزدور سے شہنشاہِ غزل تک، مہدی حسن کی چوتھی برسی

برصغیر کے عالمی شہرت یافتہ گائیک اور شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی چوتھی برسی 13 جون کو منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر منعقد کی جانے والی مختلف تقریبات میں مرحوم کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

سانسوں کو سروں میں ڈھال دینے کے ماہر اور شہنشاہِ غزل کہلانے والے استاد مہدی حسن نے 13 جون سن 2012ء کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی۔

مہدی حسن کو اپنے مداحوں سے بچھڑے چار برس بیت گئے لیکن ان کی خوبصورت آواز بدستور شائقین کی سماعتوں کی ہم سفر ہے۔ مہدی حسن 1927ء میں بھارتی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

سن 1947 میں مہدی حسن اہل خانہ کے ساتھ نقل مکانی کر کے پاکستان چلے گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈیزل انجن مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر اور اس کے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے۔ اس دوران بھی وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ان حالات میں بھی ریاض جاری رکھا۔

سن 1950 کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ گیلانی کی جوہر شناس شخصیت نے ریڈیو پاکستان لاہور میں ہونے والی موسیقی کانفرنس میں انہیں غزل گانے کا موقع دیا اور مہدی حسن کو ایک نئی راہ مل گئی۔ ساٹھ کی دہائی میں ان کی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

60 اور 70 کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے۔ سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لے کر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔ سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ بھی کیا۔

اُن کے احترام کا یہ عالم تھا کہ مشہور بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کہتی تھیں کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود ان کی شخصیت کے بارے میں کہی جاتی ہے۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ انہیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد تھیں۔

اسی کی دہائی میں انہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکا کے دوروں میں گزارا۔ ان کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اْن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

سانسوں کو سروں میں ڈھال دینے کے ماہر مہدی حسن نے 13 جون سن 2012ء کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی، طویل جدوجہد اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اپنے کام سے ان کی گہری وابستگی ہمیشہ ان کو چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھے گی۔